|

وقتِ اشاعت :   April 6 – 2021

کوئٹہ: گرینڈ الائنس کے ملازمین کا دھرنا آٹھویں روز بھی جاری رہا، گرینڈ الائنس ملازمین کے کنوینئیر عبدالمالک کاکڑ نے آزادی نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سترہ نکات مطالبات ہیں جن میں سے ایک نکات ہماری تنخواہوں میں اضافے کا ہے انکا کہنا تھا کہ ہم بلوچستان حکومت کیساتھ پچھلے تین مہینوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے۔

مگر افسوس کی بات ہے بلوچستان حکومت نے ہماری ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی اور نہ ہی کوئی مذاکراتی ٹیم بنائی اور نہ ہی ہمارے خطوط کا کوئی جواب دیا گیا نہ زبانی نہ تحریری ہم نے مجبوراً 15 مارچ کو پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا کہ ہم احتجاج کرنے جا رہے ہیں مگر اس کے باوجود ہم دس سے بارہ دن خاموش رہے کہ شاہد صوبائی حکومت ہم سے کوئی رابطہ کرے اور معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔

مگر مجبوراً گذشتہ ماہ کی 29 تاریخ سے کوئٹہ کی مرکزی چوک پر پر امن دھرنا دیئے بیٹھے ہوئے ہیں انکا مزیدکہنا تھا کہ اس دوران ہمارے مذاکرات بھی ہوئے اور گزشتہ رات اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ساتھ ہمارے مذاکرات ہوئے بہت سے معاملات میں ہماری اور حکومت کے درمیان معاملات طے پاگئے تھے مگر ہمیں بتایا گیا کہ آپکے کاغذات بن رہے ہیں مگر آخری وقت میں کمپیوٹرز بند ہوئے بتیاں بند ہوئی۔

اور ہمیں کہا گیا کہ آپ اب جاسکتے اور ضرورت پڑی تو ہم آپ کو دوبارہ بلا ئیں گے اور آج سارا دن گزرا ہمیں نہیں بلایا گیا کہ جس سے یہی لگتا ہے کہ حکومت روز اول سے ہمارے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔انکا مزید کہنا تھا کہ جیسا کہ آج پورے بلوچستان میں ملازمین کے حق میں ٹرانسپوٹرز،سیاسی،غیر سیاسی جماعتیں، تاجر برادری، اور عوام نے ملازمین کے حق میں نکلے اور ایک پر امن پیغام صوبائی حکومت کو دیا کہ خدا را اپنی پالیسیوں کا ازسر نو انکا جائزہ لیں۔

اور ملازمین کے مطالبات کو من و عن تسلیم کیا جائے اس موقع پر حاجی عبدالرحمن مردانزئی نے کہا کہ آج ہمارے دھرنے کا آٹھواں دن ہے مگر صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل ناکام ہے انکا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمارا امتحان لینا تھا اور لے لیا ہم تکھے نہیں اور نہ ہی اپنے مطالبات سے دستبردار ہونگے انکا مزید کہنا تھا کہ ہم یہاں کوئی وزارات مانگنے نہیں آئے ہیں۔

نہ ہی الیکشن لڑنے آئے ہم اپنی تنخواہوں میں جو پچیس فیصد اضافے کے لئے آئے ہیں جسکا وفاق نے اضافے کا نوٹیفیکشن جاری کیا تو صوبائی حکومت کیوں کہتی ہے کہ ہمارے خزانے میں پیسے نہیں ہے انہوں کہا آپکی پروٹوکول کے لیئے آپ جو لاکھوں خرچ کرتے ہیں اس کے لیئے آپ کے پاس پیسے ہیں اور جب ملازمین کی بات آتی ہے تو آپ کا خزانہ خالی ہوجاتا ہے۔

ان کا مزیدکہنا تھاکہ آج تک تاریخ میں پورا بلوچستان ایک ہی دن میں کبھی بند نہیں ہوامگر آج ہمارے ملازمین کے حق میں بلوچستان کی تمام شاہراہیں بند تھی انہوں نے مزیدکہا کہ میں پورے بلوچستان کے ملازمین کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آج انہوں نے پورے بلوچستان کو بند کردیا تھا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج ہماری کمیٹی بیٹھی گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے اور اسکا اعلان بھی کرینگے۔