کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی 2021-22 سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر عارف جان محمد حسنی، نور محمد دمڑ، سیکریٹری خزانہ پسند خان بلیدی، سیکرٹری بلڈنگ غلام علی بلوچ، سیکریٹری روڈ سلیم اعوان سیکرٹری اریگیشن اکبر علی بلوچ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ احمد رضا خان، سیکرٹری پی ایچ ای صالح محمد ناصر، سیکریٹری اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسحاق جمالی، سیکریٹری اطلاعت سہیل الرحمن بلوچ، سیکرٹری امپلیمنٹیشن محکمہ صوبہ بندی و ترقیات عبداللہ خان، کمشنر کوئٹہ ڈویژن اسفندیار کاکڑ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو سیکرٹری امپلیمنٹیشن نے مالی سال 2021-22 کی نئی اور جاری اسکیمات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ڈی پی 2021-22 میں کل نئی 2285 ترقیاتی اسکیمات، 1501جاری اسکیمات، 25 ایف پی اے اسکیمات سمیت کل 3811 ترقیاتی منصوبے شامل ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وہ ترقیاتی اسکیمات جن کے لیے سو فیصد ایلوکیشن رکھی گئی ہے اور جو اس مالی سال میں مکمل کی جائینگی ان منصوبوں کی تعداد 788 ہے اس موقع پر وزیر اعلی نے کہا کہ ایک اچھے مکینزم کے ساتھ تمام امور کو اسٹریم لائن کرتے ہوئے سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے وزیر اعلی نے محکمہ بلڈنگ کو ہدایت کی کہ عمارتوں کے بہتر ڈیزائن کے لئے ای او آئی کے ذریعے کنسلٹنسی کی خدمات حاصل کی جائے اور انسپکشن اور مانیٹر کے نظام کو بھی موثر بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام اسکیمات جو ڈی ایس سی اور پی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ہوچکے ہے ان کی اتھارائزیشن کے بعد ان کے لیے جلد ٹینڈرنگ پراسیس شروع کرتے ہوئے آئندہ مہینے جولائی کے پہلے ہفتے میں ٹینڈرز کا اجرا کیا جائے۔ وزیراعلی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے یقیناً اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گےدریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان نے یہاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔
ملاقات میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات حافظ عبدالباسط، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری زاہد سلیم، سیکرٹری خزانہ پسند خان بلیدی، سیکرٹری اطلاعات سہیل الرحمن بلوچ سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک تھے۔ ملاقات میں زراعت، لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی، نجی سرمایہ کاری، معدنیات، پانی اور فوڈ سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پر سماجی و معاشی ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات، ایس ڈی جیز، یونیورسل ہیلتھ کارڈ، پی ایس ڈی پی آٹو میشن سسٹم اور سٹیزن بجٹ 2021-22 پر بھی تفصیلی گفتگوکی گئی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی ایس ڈی پی آٹو میشن سسٹم کا اجراء کیاگیا ہے۔
پی ایس ڈی پی ایپ کے ذریعے ہر سکیم کا بار کوڈ کے ذریعے ڈیٹا ٹریس کیا جاسکے گا۔عوام کی ضروریات اور مسائل کو مد نظر رکھ کر ترقیاتی منصوبے تیار کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے۔صوبے میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔جبکہ مائننگ کے شعبے کی ترقی کیلئے دو کمپنیاں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کی ماسٹر پلاننگ کیلئے حکومت پنجاب سے معاہدہ کیا ہے۔
صوبے میں پہلی بار ڈیجیٹل پالیسی متعارف کرائی گئیے۔وزیرعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ بجٹ کی معلومات صرف اس صورت میں مفید ہوسکتی ہیں جب لوگ اسے اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے سٹیزن بجٹ بک تیار کی ہے جس کے ذریعے تمام سیکٹرز کی اہم معلومات لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ملاقات میں وفاق اور بلوچستان کے درمیان ترقیاتی منصوبوں پر اشتراک کار اور روابط مزید بنانے پر اتفاقکیاگیا۔ملاقات کے دوران ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے ملک کی ترقی کیلئے ڈویلپمنٹ ڈائیلاگ کے آغاز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کے پروگرامز کی جانب فوکس کرنا ہوگا۔
لائیو سٹاک زراعت کی ترقی اور پانی کو محفوظ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اشد ضروری ہے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو پلاننگ کمیشن کے دورے کی دعوت بھی دی جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ بہت جلد پلاننگ کمیشن کا دورہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہر دو ماہ بعد محکمہ منصوبہ بندی کے حکام کو پلاننگ کمیشن کا دورہ کرکے بلوچستان میں جاری وفاقی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلی بلوچستان نے اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کو سٹیزن بجٹ 22-2021 کی کتاب بھی دی۔