|

وقتِ اشاعت :   August 27 – 2021

خضدار: سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے مرکزی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت چیئرمین فضل یعقوب بلوچ منعقد ہوا جس میں اکثریتی عہدیداران نے شرکت کی، جہاں مختلف ایجنڈے زیر بحث رہے اجلاس کی نظامت تنظیم کے جنرل سیکریٹری قدیر شیخ نے کی ، اجلاس میں تنظیمی امور پر تفصیل سے گفتگو ہوا اور ایس ایس ایف کی موجودہ صورتحال میں بطور ایجوکیشنل آرگنائزیشن جامعہ بحث ہوا. ایس ایس ایف کی موجودہ دور میں مقام پر ساتھیوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا خضدار کی سطح پر ایس ایس ایف قابل اعتماد اور قابل قبول واحد طلبا تنظیم ہے۔

جس میں طلبا و طالبات نہ صرف اپنی مستقبل محفوظ سمجھتے ہیں بلکہ تنظیم کو اپنے لیے نظریاتی مسکن تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایس ایس ایف کی کامیابی ہے کہ شروع شروع میں جب ہم نے کیریئر کائونسلنگ کا کام شروع کیا تو مختلف خود ساختہ دانشوروں اور نام نہاد سیاسی کارکنوں و تنظیموں نے اسے غیر سیاسی پن قرار دیا تھا مگر آج وہ خود اسی موضوع پر تقریب و سیمنار منعقد کررہے ہیں۔

حتی کہ جو شخص یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ایڈمیشن و اسکالرشپ سے بلوچ کو کوئی فائدہ نہیں آج وہ نام نہاد انقلابی کارکنان بھی صرف ایڈمیشن اور اسکالرشپ سوشل میڈیا شئر کرتے نہیں تھکتے۔ ہمیں انکی اس عمل سے کوئی حسد نہیں بلکہ ہمارے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ ماضی کے ایس ایس ایف کے کٹر مخالفین بھی آج اسکی بادل ناخواستہ تقلید و تائید کررہے ہیں۔ موجودہ دور میں ایس ایس ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ماضی میں جو لوگ تنظیم کی بنیاد پرستوں، قدامت پسندوں، رد انقلابی اور جنونی شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کو درست تسلیم نہیں کررہے تھے آج وہ صاحبان خود ان جمود کے شکار اور جنونی شدت پسندوں کی طرف سے ہراسمنٹ و تذلیل کے شکار ہیں۔

صرف یہ نہیں بلکہ انکی اچھی خاصی حمایتی کھیپ بھی ان کے ساتھ دوبدو ہے۔ عہدیداران نے کہا کہ خضدار میں کتب بینی کی بڑھتی ہوئی شوق اور نئے لکھاریوں اور قاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایس ایس ایف کی جدوجہد کا ثمر ہے. بلکہ یوں کہیں کہ خضدار میں دس سالہ جمود کو توڑنے اور اسٹوڈنٹ ایکٹوزم کو بحال ایس ایس ایف نے کیا تو غلط نہیں ہوگا. اس سے پہلے اگر کوئی تنظیم تھا تو محض کسی تعلیمی ادارے کی اندر تک محدود تھا لیکن یوں پبلک تقریب منعقد کرنے اور تنظیمی سرگرمیاں کرنے والا گرائونڈ پر کوئی نہیں تھا۔

لیکن آج ہر اتوار کو دو سے تین تنظیموں کی جانب سے کسی ایک سرگرمی کی کال ضرور آتی ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔ تنظیم کے ترجمان سنگت نعیم بلوچ کو کئی مرتبہ تنبیہ اور ہدایت کے باوجود بار بار تنظیمی اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر سنجیدہ رویہ کی وجہ سے چند دن پہلے انہیں شوکاز نوٹس دیا گیا۔

جس کا سنجیدگی سے جواب دینے کے بجائے انہوں نے راہ فرار اختیار کیا اور مسلسل ساتھیوں کی رابطہ کے باوجود بھی انکی جانب سے کوئی مثبت رویہ سامنے نہیں آیا اور متفقہ طور پر سنگت نعیم بلوچ کو عہدہ سے ہٹانے اور رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام عہدیداروں کی متفقہ رائے کے بعد کابینہ کی مدت پوری ہونے تک عہدہ کو خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا اور ترجمان کے اختیارات اور فرائض تنظیمی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سنگت فیاض بلوچ کو سونپ دی گئی۔