کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مانگی ڈیم لیویز شہدا سانحہ زیارت کے خلاف گزشتہ روز آل پارٹیز اور احتجاجی دھرنا کمیٹی کی اپیل پر صوبے کے تمام چھوٹے بڑے اہم قوموں شاہراہوں کو ٹریفک کیلئے بند کرکے پہیہ جام ہڑتال کیا گیا تھا جس پر ٹرانسپورٹرز اور عوام نے اپنی مرضی سے ٹرانسپورٹ کو بند رکھا مگر افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ نااہل صوبائی حکومت او ر نیو سریاب پولیس تھانے نے پشتونخوامیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے اور تختانی بائی پاس علاقائی یونٹ کے دیگر رہنماؤں وکارکنوں کے خلاف کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کے بہانے سمیت درجن بھر مقدمات قائم کرکے ایف آئی آر درج کی جس کی پشتونخوامیپ نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ فی الفور اس نام نہاد ایف آئی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جمہوری احتجاج کا حق اس ملک کا آئین ملک کے ہر شہری کو دیتا ہے ہمارے صوبے کی لیویز فورس کے رسالدار میجر زمان پانیزئی، نائب رسالدار مدثر کاکڑ،سپاہی زین اللہ پانیزئی کو شہیدکیا گیا جس کے خلاف ہمارے عوام نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے 12دن تک احتجاجی دھرنا دیا جو اب بھی جاری ہے اورکمیٹی کے سربراہ نواب ایاز خان جوگیزئی کے اعلان کردہ احتجاجی شیڈول کے مطابق صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے، جلسے، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کیا گیا جسے آل پارٹیز، احتجاجی دھرناکمیٹی، انجمن تاجران، ٹرانسپورٹرز اور بالخصوص ہمارے عوام نے اس احتجاجی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اس احتجاجی تحریک سے بوکھلاہٹ کاشکار ہونیوالے نام نہاد مسلط صوبائی حکومت جس نے اب تک شہدا کے لواحقین کو انصاف فراہم نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس احتجاج کرنیوالے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں وکارکنوں کے خلاف ہی مقدمات قائم کردیئے ہیں جو کہ قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے ودیگر رہنماؤں وکارکنوں کے خلاف ایف آئی آر اس لیئے درج کی گئی ہے کہ انہوں نے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ گزشتہ روز چیف منسٹر فٹبال ٹورنامنٹ کے افتتاح کے موقع پر ہجوم کے موقع پر کرونا ایس او پیز نہ ہی اس نام نہاد حکومت اور نہ ہی پولیس کو نظر آئی کہ وہ ایف آئی آر درج کرتے اگر قانون کا معیار حکومت اورعوام کیلئے ایک ہے تو وزیر اعلیٰ ودیگر حکومتی عہدیداروں کے خلاف اجتماعات منعقد کرنے اور کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کا ایف آئی آر درج کیا جائے۔
بیان میں ایک بار پھر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ کے رہنماؤں وکارکنوں کے خلاف درج مقدمات کو فی الفور واپس لیا جائے اور ایسے عوام دشمن، جمہوریت دشمن فیصلو ں واقدامات سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسے اونچے اقدامات سے پارٹی کو کسی صورت اپنے عوام کے حقوق ان کی جان ومال کی تحفظ اور اپنے سرزمین کی دفاع کیلئے جاری جدوجہد کی تحریک سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔