لاہور: قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے آئی ایم ایف اور عوام دونوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دعا ہے کہ عمران نیازی پیٹرول اور بجلی کی قیمت میں پیکج پر آنے والے دنوں میں یوٹرن نہ لیں، ڈوبتی سیاست بچانے کے لیے معاشی، قومی اور عوامی مفادات کو بلی چڑھایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو خوش کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو چکر دیا جارہا ہے، حکومت آئی ایم ایف اور عوام دونوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی 24 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی شہروں میں 14.3 اور دیہات میں 14.6 فیصد ہے، کے الیکٹرک کا 2.90 روپے فی یونٹ اضافہ نام نہاد ریلیف واپس لینے کے مترادف ہے، بجٹ تک پیٹرول اور بجلی کی قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کرکے پھر بجلی کی قیمت کیوں بڑھائی جا رہی ہے؟
صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ تاریخ میں اتنا قرض کسی حکومت نے پاکستانیوں پر نہیں لادا جتنا تین سال میں لادا گیا ہے، بینکوں کو آئل درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ایل سی کھولنے میں ہچکچاہٹ سے ملک میں تیل کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، ملک میں ڈیزل کے بحران کا خدشہ تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت کم ہوئی ہے تو مہنگائی میں کمی کیوں نہیں ہوئی؟ کرایوں میں کمی کون کرائے گا؟ ایل پی جی کی قیمت میں پہلے ہی 27 روپے فی کلو اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کالی کمائی کرنے والوں پر کرم، میڈیا اور عوام پر کالے قانون اور سیاہ مہنگائی کا ستم؟ قرضوں نے معیشت اور معاشی ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا ہے، حکومت ہر ماہ بیرون ملک سے ایک ارب ڈالر قرض لے رہی ہے۔