|

وقتِ اشاعت :   March 4 – 2022

میاں چنوں: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کو چار دن کا وقت دیتے ہیں کہ خود مستعفی ہوجائیں یا اسمبلیاں توڑیں، میدان میں آئیں اور ہمارا مقابلہ کریں وگرنہ ہم اسلام آباد آکر وزیراعظم کا فیصلہ کریں گے۔

 انہوں نے یہ بات عوامی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں، حالت یہ ہے کہ لوگ اپنے بزرگوں کے لیے دوائی نہیں خرید سکتےاور یہ کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم کو گھبرانا چاہیے۔ انہوں ںے کہا کہ پاکستان کے عوام حکومت سے حساب لینے کے لیے نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری بات نہ مانی تو عوام اسلام آباد آرہے ہیں۔

قبل ازیں انہوں نے ملتان میں ہم نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پیپلزپارٹی اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مکمل طور پر اپوزیشن کے امیدوار برائے وزرات عظمیٰ کو سپورٹ کریں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اپنا امیدوار لائے گی۔

 انہوں نے کہا کہ عوامی مارچ کا مقصد نا اہل اور سلیکٹڈ وزیراعظم کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مہنگائی،غربت اور پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مارچ کا فائدہ یہ ہوا کہ جو پہلے عدم اعتماد کے خلاف تھے، وہ بھی آج ساتھ ہیں۔

ایک سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ اب اپوزیشن کی تمام جماعتیں ساتھ چلیں گی اور ہم مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ایک ساتھ ہونے سے حکومت پر بہت دباؤ آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مارچ شروع ہوتے ہی حکومت نے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی اور پہلی مرتبہ اتحادیوں کے گھر بھی پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے کراچی سے جو سفر شروع کیا وہ اب پنجاب میں رواں دواں ہے۔ انہوں نے کہا کہ  گزشتہ روز رحیم یار خان میں شاندارعوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پتہ چل گیا ہے کہ عوام کا وزیراعظم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ اب اتحادی اور حکومت کے ارکان بھی اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے سہولت کاروں کو عوام کا ساتھ دینا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب کٹھ پتلی حکومت کا سہولت کار نہیں رہنا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ
حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے میڈیا کی آواز کو دبانا چاہا لیکن پیپلزپارٹی نے حکومتی آرڈیننس کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کیا ہے اور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد پتہ چل جائے گا کہ کیا ہوتاہے؟ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی تحریک پر اب کوئی جذباتی نہیں ہوسکتا، اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے زیادہ سے زیادہ اراکین کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ نمبر زپورے ہیں لیکن مسلسل نمبرز بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ
کچھ پتہ نہیں آخری وقت میں کیا ہوگا؟ انہوں ںے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی نے جو کہا وہ کر دکھایا۔

وزیراعظم بلاول کے نعرے لگ رہے ہیں تو کیا شیروانی سلوا لی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اپنی ذات کے لیے کوئی کام نہیں کررہا ہوں، جو بھی کررہاہوں ملکی مفاد اور عوام کے لیے ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عوامی مارچ کا مقصد ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات ہوں اورعوام کو اپنا نمائندہ چننے کا اختیار ملے تو ملک کے لیے بہترہوگا۔

 چیئرمین پی پی سے پوچھا کہ سنا ہے کچھ پتے آپ نے چھپا کر رکھے ہیں جو اسلام آباد میں جا کر شو کریں گے تو انہوں نے برجستہ طور پر کہا کہ اگر فلم کا شروع اور اینڈ بتادوں تو پھر فلم میں کیا رہے گا؟