|

وقتِ اشاعت :   March 9 – 2022

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسپیکر قومی اسمبلی سے تحریک عدم اعتماد کے لیے اسمبلی کا اجلاس جلد طلب کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور ملک طویل بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

فواد چوہدری نے وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1989 میں پاکستان میں پہلی بار تحریک عدم اعتماد لائی گئی، اس وقت نواز شریف اور آئی جے آئی تھی اور اس میں بھی جمعیت علمائے اسلام نواز شریف کے ساتھ تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بے نظیر بھٹو کی حکومت الٹنے کے لیے نوٹوں کی بوریاں کھولی گئیں اور جس قسم کے بازار لگائے گئے اسی سے ’چھانگا مانگا کی سیاست‘ کی مشہور اصطلاح وجود میں آئی، اس وقت زرداری صاحب مارکیٹ میں اترے اور اپنی مارکیٹ کھول کر لوگوں کو مری لے کر چلے گئے لہٰذا آپ اندازہ لگائیں کہ 1989 کے بازار کے سرخیل اور پاکستان میں اراکین کی خریدوفروخت کا آغاز کرنے والے دو افراد نواز شریف اور آصف زرداری تھے اور اب یہ دونوں مل کر نئی مارکیٹ کھول لیتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پیسے کے ان بیوپاریوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہے، انہوں نے جب سے سیاست شروع کی ہے ان کا ایک ہی ماڈل ہے، پیسے لگا کر لوگوں کو خریدو اور حکومت میں آ کر ملک کو لوٹو، جو پیسے لگائے ہیں اس کی انویسٹمنٹ ڈبل واپس لے لو اور پھر وہ پیسے لے کر باہر چلے جاؤ۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کا یہ ماڈل نواز شریف اور زرداری نے شروع کیا اور پھر اس میں مولانا فضل الرحمٰن کی انٹری ہوئی جنہوں نے پہلے 1993 میں بے نظیر بھٹو سے مفادات لیے، سب سے پہلے ڈیزل کے پرمٹس مولانا فضل الرحمٰن نے لینا شروع کیے اور ڈیزل بیچنا شروع کیا، اس وقت کی بیرونی قوتوں سے براہ راست پیسے لینا شروع کیے اور ان کے ہیڈ آفس جا کر دیکھیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ وہ کس ملک کی امداد سے بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ندیم افضل چن پیپلز پارٹی جوائن کرنے لگے تو میں نے ان سے ملاقات کر کے کہا کہ پیپلز پارٹی جوائن کرنے سے بہتر ہے کہ کانگریس جوائن کر لو کیونکہ راہل گاندھی کے پنجاب میں پیپلز پارٹی سے زیادہ ووٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پنجاب میں یہ حالات ہیں کہ جن لوگوں کا اپنا ذاتی ووٹ بینک ہے، جب اس ووٹ بینک پر زرداری کا ٹھپہ لگتا ہے تو 10ہزار ووٹ کم ہو جاتے ہیں، کوئی آدمی پیپلز پارٹی کا ٹکٹ لینے کے لیے اس وقت تیار نہیں ہے اور اگلا الیکشن پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان ہونا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ننھے منے مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے سندھ کا این ایف سی کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا، سرکاری گاڑیاں آئیں، 18ویں ترمیم کے نام پر عجیب و غریب تماشا لگا ہوا ہے کیونکہ ہم صوبوں سے پوچھ نہیں سکتے اور وہاں پیسہ ضائع ہورہا ہے۔

انہوں نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ اور امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی مالیاتی بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور ہمیں اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ہم اسپیکر صاحب سے گزارش کررہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کو زیادہ لمبا نہ لٹکائیں، اس کو جلد از جلد ایوان میں لائیں کیونکہ ملک لمبے بحران کا متحمل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان میں 172 لوگ دکھانے ہیں لیکن ہمارے پاس اس وقت 179 سے زائد اراکین عمران خان کی حمایت کرتے ہیں اور مزید پانچ اراکین آنے سے مجموعی تعداد 184 اراکین کی ہو جائے گی۔

فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے دو خواتین سمیت ہمارے تین اراکین کو خریدنے کی کوشش کی، کل ایک رکن نے وزیراعظم کو بتایا کہ انہیں 10کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی، یہ بہت بدقسمتی ہے اور ہم بیوپاریوں کی اس قسم کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم اپوزیشن سے کسی قسم کی گفتگو کے لیے تیار نہیں ہیں ہم نے پوری کوشش کی کہ انتخابی اصلاحات اور باقی معاملات پر بات ہو لیکن اگر ان کو عزت راس ہی نہیں آتی تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر وزیر توانائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) ملک دیوالیہ کر کے گئی تھی تو ہم اس سے بحال ہوئے اور کووڈ-19 سے پاکستان بہت احسن طریقے سے نکلا لیکن اپوزیشن نے حملہ کیا کہ شاید ہم اس صحت کی وبا میں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دیں گے لیکن ساری دنیا نے ہماری تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ کے بحران کی طرح اس عالمی معاشی کے باوجود پاکستان ساڑھے پانچ فیصد سالانہ معاشی ترقی کررہا ہے اور پاکستان دنیا میں ایک ماڈل بنا ہوا ہے کہ کس طرح ہم اس کووڈ کے بحران اور معاشی کساد بازاری سے باقی ممالک سے بہتر طریقے سے نکل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان ساڑھے پانچ فیصد سے ترقی کررہا ہے، صنعتی انقلاب بڑھ رہا ہے، ایکسپورٹ 30ارب ڈالر پر جا رہی ہے اور بجلی اور تیل کی قیمت حکومت کم کررہی ہے۔

حماد اظہر نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان دو ہفتے بعد یا شاید اس سے بھی پہلے مزید مضبوط ہو کر اس بحران سے باہر نکلیں گے، ہماری حکومت مزید مضبوط ہو گی، لوگ عمران خان کے پیچھے کھڑے ہیں۔