|

وقتِ اشاعت :   November 27 – 2022

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم خان سواتی کو آفوجی افسران کے خلاف متنازع ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گرفتار کرلیا۔ ؎

اسلام آباد سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر (سی سی آر سی) کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمٰن کی مدعیت میں ریاست کی شکایت پر ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن (ایف آئی آر) رپورٹ درج کی گئی ہے۔

سابق وفاقی وزیر کے خلاف مقدمہ پیکا 2016 کی دفعہ 131، 500، 501، 505 اور 109 تعزیرات پاکستان کی کے تحت درج کیا گیا ہے۔

اسلام آباد سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر (سی سی آر سی) کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمٰن کی مدعیت میں ریاست کی شکایت پر ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن (ایف آئی آر) رپورٹ درج کی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سینیٹر اعظم خان سواتی کو دوبارہ گرفتار کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ’میں حیران ہوں کہ ہم کتنی تیزی سے نہ صرف بنانا ری پبلک بلکہ ایک فاشسٹ ریاست میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

اعظم سواتی کی گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے میں بیان میں کہا کہ ’سینیٹر اعظم سواتی کو حراست میں لے کر تشدد کرنے کے بعد ایک بلیک میلنگ ویڈیو ان کے خاندان کو بھیجی جانے والی تکلیف کو کوئی کیسے نہیں سمجھ سکتا۔‘

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے اعظم سواتی کی مبینہ گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی نے جس باوقار انداز میں خود کو آج گرفتار کے لیے پیش کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک اصول کے لیے لڑ رہے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر اعظم خان سواتی کی گرفتاری پر بیان جاری کرتے ہوئے اسد عمر نے لکھا کہ ’آپ اعظم سواتی کے الفاظ کے انتخاب یا ان کے خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن آپ ان سے اس بات پر اختلاف نہیں کر سکتے کہ جو کچھ بھی ہو قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے۔‘

سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا ہمارے آزادی مارچ سے خطاب کرنے کے بعد ایف آئی اے نے سینیٹر اعظم سواتی کو دوبارہ گرفتار کیا کیونکہ تقریر میں انہوں نے کچھ سوالات کیے اور بتایا کہ ان کے اور ان کے خاندان کے ساتھ کیا ہوا۔

شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر اعظم سواتی کی مبینہ گرفتاری کے حوالے سے ایک وڈیو جاری کرتے ہوئے گرفتاری کو فاشزم قرار دیا اور کہا کہ کیا ان کا یہ جرم ہے، کیا چیئرمین سینیٹ نے دوبارہ اس گرفتاری کی منظوری دی ہے۔؟

خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہفتوں سے اعظم سواتی انصاف کے لیے ایک سے دوسری جگہ دوڑ رہی ہیں مگر ایک 74 سالہ شخص اب مزاحمت کی علامت ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم خان سواتی کو 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب گرفتار کیا گیا تھا۔

سابق وفاقی وزیر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سیل نے گرفتار کیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ‘پی ٹی آئی کے سینیٹر کو آرمی چیف سمیت ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور دھمکی آمیز ٹوئٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا’۔

16 اکتوبر کو بھی انہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا، جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔