|

وقتِ اشاعت :   May 12 – 2016

کوئٹہ: لاپتہ بلوچ اسیران ،شہداء کے اہل خانہ کی جانب سے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ2307ویں روز بھی جاری رہابدھ کو نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر عبدالغفار قمبرانی نے لاپتہ افراد ،شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے 2015ء کے آخری اور پہلے ہفتے کے ایام میں سندھ باسیوں کیلئے کرب و الم کی ناقابل بیان داستان رقم کرگئے اس دوران چھ دن میں سندھ دھرتی کیلئے جینے مرنے کا عہد کرنے والے لاپتہ سندھی قوم پرست کارکنوں کی چھ مسخ شدہ لاشیں سندھ اور بلوچستان کے مختلف ویران علاقوں میں پھینکی گئیں۔وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خیر بخش مری سے متلق بھی ایسے سوالات پوچھے جارہے تھے جن کو بچگانہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے ضرورت اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ بلوچ قومی تحریک ایک ایسے مرحلے میں ہے جب ہرگلی کوچے میں بلوچوں کا خون بہہ رہا ہے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لاپتہ ہیں اذیت گاہوں میں ظلم سہ رہے ہیں اکثر کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ زند ہ ہیں یا اجتماعی قبرستانوں میں دفن کئے گئے ہیں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے قبائلی جھگڑوں کے نام پر بلوچ معاشرے کو منظم ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا جس طرح مجھے اور میرے جنرل سیکرٹری کو لندن گروپ نے جدا کیا میں ماما قدیر بلوچ کیا بہت جلد نواب خیر بخش مری کا پیغام ایک ویڈیو کے ذریعے شائع کروں گا بلوچ قوم کو حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔