|

وقتِ اشاعت :   May 13 – 2016

کوئٹہ:  بلوچستان بار کونسل کے رکن وکلاء رہنماء باز محمد کاکڑ نے کہاہے کہ 12مئی ملکی تاریخ میں سیاہ ترین باب کی حیثیت رکھتاہے اس دن قانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کرنیوالے وکلاء کو زندہ جلادیاگیاتاہم ان کے مشن سے کسی صورت دستبردار نہیں ہواجاسکتا،شہداء کی جدوجہد عوام کو غصب کی گئی ان کی سماجی معاشرتی اوربنیادی حقوق دلانا تھے ان خیالات کااظہارانہوں انڈیپنڈنٹ نیوز آف پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔باز محمدکاکڑ کا کہناتھاکہ 12مئی پاکستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن ہے جس روز وکلاء سیاسی کارکنان ،سول سوسائٹی کے افراد جو قانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کررہے تھے کو قابض قوتوں نے ایک سیاسی جماعت کے مسلح ونگ کے ذریعے ان پر مظالم ڈھائے جس کے دوران نہ صرف وکلاء کوزندہ جلایاگیابلکہ دیگر افراد کوبھی خو ن میں نہلادیاگیااس کامقصد نہ صرف خوف وہراس پھیلانا بلکہ قانون کی بالادستی اورعوامی حقوق کیلئے جدوجہد کرنیوالوں پر یہ ظاہر کرناتھاکہ ان کے مد مقابل بہت زیادہ مضبوط ہے ،انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کیلئے سفاکیت کامظاہرہ کیاگیاکہ حالانکہ جلائے جانیوالے وکلاء اوردیگر کی جدوجہد کامقصد عوام کو ان کے حقوق دلاناتھے ہم اس 12مئی 2007کے دن کوکسی صورت فراموش نہیں کرسکتے ،ملک میں 2سوچ رکھنے والے ایک دوسرے مد مقابل ہے ایک وہ لوگ ہے جو تمام لوگوں کے حقوق کوبرابر مانتی ہے اوروہ اس پرعملدرآمد کیلئے جدوجہد کررہی ہے جبکہ دوسری وہ سوچ ہے جس کے لوگ اسٹیٹس کو برقراررکھنے کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے انہوں نے کہاکہ وکلاء نے جوقربانی پیش کی اس سے بلایانہیں جاسکتابلکہ ان کے مشن کو بہرصور ت پایہ تکمیل تک پہنچایاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ وکلاء کے اندر بھی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے ابن الوقت قوتوں کاساتھ دیاتاہم بلوچستان میں پروفیشنل پینل کے ذریعے ان قوتوں کا راستہ روکا گیاہے ہم شہداء وکلاء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ ان کے مشن کو بہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایاجائیگا۔