|

وقتِ اشاعت :   May 14 – 2016

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان جان محمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اپوزیشن کی جانب سے واویلا بلا جواز اور سیکرٹری خزانہ کی کرپشن کی تحقیقات کو سیاسی شعبدہ بازی کی نظر کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری خزانہ کرپشن کیس بلوچستان اور یہاں کے غریب عوام کے وسائل کو لوٹنے کی بد ترین مثال ہے جس کی کوئی بھی ذی شعور انسان اور بلخصوص نیشنل پارٹی کیلئے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ترجمان نے کہا ہے کہ مذکورہ مسئلہ پر سیاست دراصل مذکورہ کیس پر اثرانداز ہونے کی سازش ہے ترجمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے مذکورہ اشو کو جواز بنا کر نیشنل پارٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان لو گوں کی کرپشن، اقرباء پروری کی تو بلوچستان میں اور کوئی مثال موجود نہیں ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں نجی ٹی وی کے اینکر نے بلوچستان اور اپوزیشن کے دور حکومتوں میں ہونیوالی غضب ناک کرپشن کا پول کھو ل دیا اینکر نے کہا ہے کہ مولانا عبدالواسع اور زمرک خان اچکزئی کے دور حکومت میں315 ارب روپے کا میگاکرپشن کیا گیا اور اسی دور حکومت کے صاحب اختیار لو گوں کے خلاف کرپشن کے120 کیسز نیب میں زیر تفتیش ہے میڈیا نے گزشتہ حکومتوں میں شامل آج کے اپوزیشن کے چہروں پر سے کتات کو اٹھا دیا لیکن چار سے پانچ روز گزرنے کے باجود مولانا عبدالواسع کے گزشتہ دور کے حکومت اور دوسرے شریک اقتدار افراد کی طرف سے میڈیا کے عبرتناک انکشاف پر کوئی رد عمل اور تردید نہیں آیا جو کہ اس حقیقت کو تقویت پہنچاتی ہے کہ اپوزیشن کے عمل میں صرف کچھ ایسا ہے کہ جس کی تردیدنہیں کی جا سکتی اگر ان انکشافات میں حقیقت نہ ہو تا تو اپوزیشن آسمان سر پر اٹھانا اور مذکورہ اینکرکے خلاف ضرور عدالتوں میں جاتے ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری خزانہ کرپشن کیس میں کھڑیاں بادی النظر میں2002 تک جا ملتے ہیں جس میں ماضی کے بڑے بڑے پر نشین شامل ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ نیب میڈیا کے315 ارب روپے کے کرپشن کے انکشافات سمیت محکمہ خزانہ میں بھی مشتاق رئیسانی کرپشن کیس کی طرزکی کرپشن کی تحقیقات2002 کی جائے اور جس سیاستدانوں اور بیورو کریٹس نے محکمہ خزانہ کی گنگا میں غوطے لگائے ہیں ان کو بھی بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔