|

وقتِ اشاعت :   May 14 – 2016

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر اور قائد حزب اختلاف مولانا عبدالوسع نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام 2002ء کے بجائے 1988 ء سے احتساب کے حق میں ہے کیونکہ 1988ء سے لیکر 2008ء تک جمعیت علماء اسلام حکومتوں کا حصہ رہی ہیں اور جمعیت علماء اسلام نے صوبہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کیا اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبہ کے فنڈ ز میں اضافہ کیا لیکن صوبہ اور عوام کے خیرخواہ ہونیوالی جماعتوں نے ڈھائی سال کے دوران 40 ارب روپے لیکر عوام اور صوبہ کو مزید پسماندگی کا شکار بنا دیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ سیف اللہ میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ برحق ہے اور حکومت اس مطالبہ کو تسلیم کرکے ڈھائی سال کے دوران جو لوگ اقتدار میں تھے وہ خود کو اقتدار سے الگ کرکے خزانہ لیکس کے متعلق صاف شفاف تحقیقات کرکے احتسابی عمل کو موثر اور قابل بنایاجائے انہوں نے کہا کہ ڈھائی سالہ قوم پرستوں کے دورحکومت میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے بلوچ اور پشتون قوم پرست نہ تو جمہوری ہیں اور نہ ہی صوبہ کے عوام کیلئے کام کررہے ہیں وہ صرف اپنے پیٹ بھرنے کیلئے دوسروں کا کندھا استعمال کرکے براجمان رہیں انہوں نے کہا کہ جب تک سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے دور حکومت کے وزراء مستعفی نہیں ہونگے اپوزیشن کا اسمبلی اور اسمبلی کے باہر سے احتجاج جاری رہے گا انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کو ہم نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دوسروں کے داغ کے دھبے اپنے سرپر نہ لیں اور ان وزراء کی نشاندہی کریں جو کرپشن میں ملوث ہیں ۔