کوئٹہ : سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سیاسی کارکن ہیں اور سیاسی رہنماوں کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں تنقید بھی عزت کے دائرے میں کرتے ہیں پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لئے قوم پرست قیادت نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ یہ بات انہوں نے ہفتے کو بلوچستان اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ کرپشن کے خلاف ہیں۔ اور اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کیس بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں ہے ۔ اس لئے اس پر محتاط انداز میں گفتگو کرر ہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کیس ابھی تک عدالت میں ہے اور میں نے کسی بھی کمپنی کو ریکوڈ ک نہیں دیا اپوزیشن کوچاہئے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ ریکوڈک پر بات کریں میں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ریکوڈک گوادر پر باقاعدہ ڈیبیٹ رکھا جائے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ زمرک خان نے ریکوڈک کی 99سکوائر کلو میٹر لینڈ تھیتان کمپنی کو کتنے پیسوں میں دیا کیا بلوچستان میں مائنگ کیلئے کمپنیوں کو زمین الاٹ کی جاتی ہے یا مائنگ لائسنس دیتے جاتے ہیں یا ایکسپوریشن لائنس دی جاتی ہے ریکوڈک چونکہ ایک ایکسل میں تھا اسلئے محتاط انداز میں بات کی خدا نخواستہ ہمارے کیس کی نوعیت خراب نہ ہوجائے لیکن اپوزیشن کے رہنماؤں کو بتانا چاہتاہوں کہ ریکوڈک پر جو ایگریمنٹ اور ڈس ایگریمنٹ ہوئے ہیں وہ بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( بی ڈی اے ) نے کئے ہیں۔ اور اس وقت یہ وزارت جمعیت علماء اسلام کے پاس تھی سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ گوادر میں ارضیات کی الاٹمنٹ جو 2002سے تھے میں نے کینسل کئے ریاست بلوچستان کے پاس ایک انچ زمین بھی گوادر میں نہیں تھی تمام ارضیات یا ر لوگوں نے اپنے ناموں پر کی تھی میں نے مشکل سے پسنی اور گوادر میں غیر قانونی الاٹمنٹ کو کینسل کیا میں آج بھی اس پر بات کرنے کو تیار ہوں اور وہ تمام لوگ کون تھے جن کے نام آئل سٹی کی ارضیات الاٹ کئے گئے بتانے کو تیار ہوں ایک دن اس پر بحث رکھی جائے یار لوگوں نے آئل سٹی اپنے نام الاٹ کی اور پھر سرکار سے کہا کہ آئل سٹی کے لئے ہم سے آئل سٹی کی زمین 23ارب روپے میں خریدیں۔ عبدالمالک نے کہاکہ خزانہ لیکس پر سوشل میڈیا بہت کچھ سامنے آرہاہے یہ شیطان کی آنتھ ہیں یہ 2002سے شروع ہو کر یہاں تک آتی ہے ہم نے صرف 2سال حکومت کی ہے 2002سے 2013تک کون لوگ تھے کہ میڈیا میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس دور میں ابھی تک312ارب کی کرپشن ہوئی ہے سابقہ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ہمارے ایم پی فنڈز اور چیف منسٹر فنڈ کے لئے انکوائری کمیٹی بنائی جائے اور میں تجویز کرتا ہوں کہ لیڈر آف اپوزیشن مولانا واسع اور زمرک خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کرکے ہمارے فنڈز کی انکوائری کی جائے اور انہوں نے کیا کیا ہے اس کمیٹی ہمیں بیٹھا یا جائے پھر ثابت ہوگا کہ کرپشن کس نے کی ہے ؟ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ ہم ریکوڈک گوادر اور لوکل گورنمنٹ فنڈپر بحث کے لئے تیار ہیں ان کے لئے ایک ایک دن مقرر کیا جائے اور ہم اپوزیشن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسمبلی کے ڈیکورم کا بھی خیال رکھیں گے ۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ جس دن سیکرٹری خزانہ والا واقعہ پیش آیا تھا اسی دن سے ہم یہاں موجود ہے اور ہماری پارلیمانی ٹیم بھی یہاں موجود ہے پارٹی نے واقعے کے بعد مشیر خزانہ میر خالد خان لانگو کو مستعفی ہونے کا کہاکہ جس نے پارٹی پالیسی کے تحت مشیر خزانہ کے عہدے استعفیٰ دے دیا اور جو قانونی تقاضے ہیں ہم پورکر رہے ہیں پارٹی کی واضح پالیسی ہے کہ پوری پارلیمانی ٹیم یہاں موجود رہے اور اپوزیشن کے سوالا ت کا جواب دیں۔