|

وقتِ اشاعت :   May 15 – 2016

کوئٹہ:  ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی اور رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ ہمارے دور میں بجٹ صرف3ارب ہوا کرتا تھا 312ارب کی کرپشن لگانے والے بلوچستان کی تاریخ کو مطالعہ کریں پھر الزامات لگائے میگا کرپشن صرف ایک سیکرٹری اور مشیر خزانہ کے استعفیٰ سے مکمل نہیں ہوسکتا ہے 8محکموں کے وزراء استعفیٰ دیکر اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کریں ورنہ ہمارا احتجاج اسی طرح جاری رہے گامڈل کلاس کا دعویٰ کرنیوالوں نے اربوں روپے کرپشن اور حکومت سے قبل کروڑوں روپے سینٹ کے الیکشن کیلئے ممبران کی بولی لگائی تھی ۔یہ بات انہوں نے ہفتے کو اسمبلی اجلاس کے بعد اپوزیشن چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی‘ اس موقع پر اراکین اسمبلی مولانا معاذ اللہ‘ مفتی گلاب کاکڑ‘حاجی عبدالمالک کاکڑ ‘سابق صوبائی وزیر ملک سلطان ترین اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء رشید خان ناصر بھی موجود تھے‘ انہوں نے کہاکہ کرپشن کیخلاف جمہوری طریقے سے ہم نے احتجاج شروع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک موجودہ دور میں کرپشن کا احتساب صحیح معنوں میں نہیں ہوتا ہے اس وقت تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اسمبلی کے اجلاس سے بائیکاٹ کرتے ہیں تو سابق وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ اور ان کا ٹولہ جو قوم پرست جماعتوں پر مشتمل ہے ہمارے خلاف بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں 3سال میں اپوزیشن ممبران پر جس طرح سے الزامات لگاتے رہے ایک سکینڈل بھی ثابت نہیں کر سکیں۔ لیکن آج جو میگا کرپشن سامنے آگئی اور ان لوگوں کے کرتوت عوام کے سامنے آگئے تو انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے ایک بار پھر اپوزیشن کو ٹارگٹ بنادیا انہوں نے کہاکہ ہم نے بار بار کہہ دیا کہ اگر ہم پر کرپشن کے الزامات ہے تو آکر 1988سے احتساب کریں ہم اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ کس نے کرپشن کی اور کس نے نہیں کی انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جب میگا کرپشن میں ہر طرف سے پھنس چکے ہیں اور ان کو گوادر اور ریکوڈک یاد آئے ۔انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کے دور میں ریکوڈک اور گوادر بارے میں جو کمیشن اور مراعات کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے رد کردی لیکن سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دور میں ریکوڈک اور گوادر میں جو کمیشن اور زمینیں فروخت کی ہے ان کے تمام ثبوتیں ہمارے پاس موجود ہیں انہوں نے کہاکہ قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے ہم پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ہم 17تاریخ کی اسمبلی کے اجلاس میں تمام انکشافات بے نقاب کرینگے ہم ان کے اس الزام کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے انکشافات عوام کے سامنے لائے ہم بھی عوام کو تمام حقائق بتائینگے انہوں نے کہاکہ میگا کرپشن میں ایک بیوروکریٹس کو گرفتار اور سابقہ مشیر خزانہ کو قربانی کا بکرا بنا کر عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم احتساب میں مخلص ہے لیکن ہم ان کو یہ باور کراتے ہیں کہ اپوزیشن2018تک حکومت میں کوئی بھی عہدہ قبول نہیں کرے گی لیکن آپ لوگ بھی غیرت کرتے ہوئے چھاؤنی کے چکریں اور کرسیاں چھوڑ کر اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرے تب معلوم ہوگا کہ آپ لوگ احتساب میں مخلص ہے انہوں نے کہاکہ سابقہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مکران ڈویژن کے ہر اضلاع میں اپنے ایجنٹ مقرر کرکے 64ہزار زمین کو اپنے من پسند افراد میں تقسیم کیے جبکہ مستونگ ‘خالق آباد ‘سوراب ‘قلات ‘تربت اور دیگر علاقوں میں کروڑوں روپے میونسپل کمیٹی میں تقسیم کیے جن کا احتساب حل طلب ہے انہوں نے کہاکہ اسی طرح ڈاکٹر عبدالمالک نے تربت میں من پسند ڈی سی کو تعینات کرکے ان سے سٹلیمنیٹ کی زمین آلاٹ کی گئی انہوں نے کہاکہ اسی طرح ڈاکٹر مالک بلوچ نے پاک ایران گیس پائپ لائن کی مد میں4ارب اور پاک چائنہ پروجیکٹ میں3ارب روپے نکال لئے انہوں نے کہاکہ آج ہم ایک بار پھر اپنے مطالبات دہراتے ہیں کہ جب تک حکومت 40ارب روپے کا احتساب نہیں دے گی ہم اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے ۔