|

وقتِ اشاعت :   May 16 – 2016

مستونگ : بی این پی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ نام نہاد بد عنوان ونیب زدہ حکمرانوں نے قومی حقوق پر سمجھوتہ کر کے نہ صرف کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھو لئے ہیں بلکہ قوم پرستی کی آڑ میں بلوچ قوم کو بند گلی میں دھکیل دیا 22 مئی کو مستونگ شہید نوروز اسٹیڈیم میں مرکزی جلسہ عام سے ثابت ہو گا اس کے بلوچ خطے پر مثبت اور درورس نتائج برآمد ہو نگے اور جلسہ عام ایسے پرآشوب دور میں ہو رہا ہے ایک طرف خطے میں آگ وخون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے دوسری جانب قوم پرستی کی آڑ میں معصومیت کا نعرہ لگانے والوں نے میگا کرپشن کر کے قوم پرستوں کی چہروں پر داغ مہر لگادی جنہیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرینگے مستونگ میں تاریخی جلسہ بلوچستان کے موجودہ بحرانی صورتحال کرپشن ونیب زدہ حکمرانی قومی حقوق پو سمجھوتہ بعض قوتوں کے سازشوں کو بے نقاب کر نے میں اہم پیش رفت ثابت ہو گی کیونکہ اس وقت بلوچستان میں مختلف سازشوں کے گہرے اثرات پر تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے اور بلوچ قوم اقلیت میں بدالنے کی جو افغان مہا جرین کی آبادی ، گوادر میں نوآبادیاتی نظام تعارف کرایا نسل کشی عوام کی بنیادی حقوق سے محرومی، تشدد، دہشتگردی کے نام پر ختم ہونے کی سازش کی جا رہی ہے کیونکہ کسی بھی قوم کو اس وقت تک کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی جس قوم میں یکجہتی اور قومی ہم آہنگی موجود ہو ہو22 مئی کا جلسہ عام کی تیاریوں اور عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں بی این پی کے سوچ سے زائد کارکنوں نے ریلی نکالی جس کی قیادت بی این پی کے مرکزی لیبر سیکرٹری منطور بلوچ، بی ایس او کے سابق چیئرمین جاوید بلوچ، نوراللہ بلوچ، غفار جان مینگل، ملک نوید دہوار، حسین شاہوانی، رشید بلوچ اورنگ زیب بلوچ، بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن جہانگیر منظور منظور بلوچ اور دیگر نے کی جبکہ موٹرسائیکل ریلی بھی نکالی گئی اس کے علاوہ عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے رہنماؤں نے کر د گاپ ، کانک ، دشت اور دیگر علاقوں میں مہم سازی تیز کی اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی۔