کوئٹہ : جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر اور قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ جو جماعتیں اپوزیشن پر الزامات ثابت نہ سکیں اور عوام میں اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے پارٹی کے اندر احتساب کیلئے کمیٹی تشکیل دینا سب سے زیادہ نااہلی ہے اور جس طرح اپوزیشن پر سابقہ وزیراعلیٰ نے الزامات لگائے ہیں وہ سمجھ سے بالاتر ہیں اور عوام کو چاہئے کہ وہ ان قوتوں کو مسترد کردیں جنہوں نے پشتون ‘ بلوچ کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کرکے ان کو بے وقوف بنایا گیا اور خود اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر خوب کرپشن کی جس کی واضح مثال سابق سیکرٹری خزانہ کے گھر سے ملنے والے کروڑوں روپے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سابقہ وزیراعلیٰ نے جس طرح ہم پر کرپشن کے الزامات لگائے اور افسوس اس بات پر ہوا اگر وہ واقعی جمہوری ہوتا تو وہ اس کرپشن کے بعد اقتدار سے تو کیا اسمبلی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیتے لیکن جن قوتوں نے ان کو اقتدار حوالے کیا اور ڈھائی سالہ دور میں صوبہ کی محرومیوں کے نام پر جو کرپشن کی ہے ان کی مثال بلوچستان کی تاریخ میں نہیں ملتی اور بلوچ پشتون کے نام پر سیاست کرکے ساحل ووسائل اورحق حکمیت کو بھی لوٹ لیا انہوں نے کہا کہ مرکز میں جب ہم حقوق کیلئے لڑتے تھے وہ بھی اب بلوچستان کی محرومیوں کیلئے فنڈ نہیں دیں گے کیونکہ جس طرح ان کی الماریوں اور پانی کی ٹینکیوں سے کروڑوں روپے ملنا شروع ہوگئے تو سب اس پر حیران ہیں جو بلوچستان کی دعویداری کی باتیں کرتے تھے انہوں نے بلوچستان کو ترقی دینے کے بجائے پسماندگی کی طرف دھکیل دیا انہوں نے کہا کہ نیب اور دیگر ادارے ان کیخلاف بھرپور ایکشن لیں جمعیت علماء اسلام صوبہ کی سب سے بڑی جماعت ہے اور جمعیت علماء اسلام کرپشن پر کسی بھی صورت خاموش نہیں رہے گی کیونکہ عوام کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی کا حساب لیں گے اور اپوزیشن کا احتجاج کرپشن کیخلاف جاری رہے گا ۔