|

وقتِ اشاعت :   May 19 – 2016

واشنگٹن:  امریکی سینیٹ میں اس بل نے بڑی رکاوٹ عبور کر لی ہے جس کے تحت 11 ستمبر میں امریکہ پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سعودی عرب کی حکومت پر مقدمہ کر سکیں گے۔امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس بل کو ویٹو کر دیں گے لیکن ڈیموکریٹک جماعت کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ صدر اوباما کا ویٹو نہیں مانا جائے گا جبکہ سعودی عرب کی حکومت 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے۔ ۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما کو اس بل پر شدید تحفظات ہیں اور مشکل ہے کہ وہ اس بل پر دستخط کر کے اس کو قانون بننے دیں گے۔اس بل کو ڈیموکریٹک جماعت کے نیو یارک کے سینیٹر چک شمر اور رپبلکن جماعت کے ٹیکس سے سینیٹر جان کورنن نے سپانسر کیا ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ بل ایوان نمائندگان بھی منظور کر لے گی۔سینیٹر شمر نے کہا ’آج سینیٹ نے یہ متفقہ طور پر واضح کر دیا ہے کہ لواحقین دہشت گردی کی کارروائی کرنے والوں کا احتساب کر سکیں چاہے وہ ملک ہی کیوں نہ ہو۔انھوں نے مزید کہا یہ ان ملکوں کے لیے تنبیہہ ہو گی جو امریکہ کے خلاف دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ یہ بل رپبلکن جماعت کی اکثریت والے ایوان نمائندگان میں منظور ہو جائے گا۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ ایسا قانون بنایا گیا تو وہ امریکی بونڈ بیچ دے گا یعنی کہ اربوں ڈالر امریکی معیشت سے نکال لے گا۔ لیکن سینیٹرز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی یہ دھمکی محض الفاظ کی حد تک ہے۔اس بل کی منظوری میں سینیٹ میں کئی ڈیموکریٹ سینیٹرز نے براک اوباما کے خلاف جاتے ہوئے اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔