|

وقتِ اشاعت :   May 21 – 2016

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے اپوزیشن اراکین کی لائی گئی دو قراردادیں ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جبکہ حکومتی اراکین کی لائی گئی تین الگ الگ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں اسمبلی نے مقامی لو گوں کے شناختی کارڈ بلا وجہ بلاک کرنے کے مسئلے پر نادرا کے ریجنل حکام کو اسپیکر چیمبر میں طلب کر لیا جبکہ پبلک اکاؤنٹس کے چیئرمین مجید خان اچکزئی نے پاسپورٹ آفس کو بلوچستان کا کرپٹ ترین محکمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے آفیسران پیسے دے کر صوبے میں اپنی تعیناتیاں کراتے ہیں اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کر تے ہوئے کرپشن کے خلاف واک آؤٹ کر کے چلے گئے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں 2 گھنٹے20 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی اجلاس میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ جعفرآباد میں شہید ہونیوالے ڈی پی او جہانزیب کاکڑ کے قتل کے حوالے سے اب ابہام پایا جا رہا ہے اس کی قتل کے حوالے سے انکوائری کا طریقہ کار طے کیا جائے اور کمیٹی تشکیل دی جائے کہ اس کی انکوائری کی جائے اور لواحقین کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جائے اپوزیشن نے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد رئیسانی کے گھر سے ملنے والے رقم اور حکومت کی جانب سے کرپشن کی روک تھام نہ روکنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر گئے بلوچستان اسمبلی میں حکومتی رکن سید لیاقت آغا نے قرارداد نمبر102 پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ پورے صوبے میں ملک کی سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے نشریات نہ ہونے کے برابر ہے مرکزی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ بلا تفریق ملک کے تمام صوبوں کو اپنی نشریات سے مستفید کر اتی اور اس طرح چند دیگر جگہوں پر پی ٹی وی بوسٹروں کا جاری کام گزشتہ کئی سالوں سے مکمل نہیں کیا گیا اور ساتھ ساتھ ہی منظور شدہ150 پوسٹوں پر بھی گزشتہ کئی سالوں سے صوبے سے کسی شخص کو تعینات نہیں کیا گیا ہے لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کر تا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ پی ٹی وی نشریات صوبے کے عوام کو پہنچانے کیلئے بوسٹروں پر جاری کام مکمل کرنے اور نئے بوسٹروں کی منظوری نیز پی ٹی وی سینٹر کوئٹہ کی150 پوسٹوں کو فوری طور پر صوبے کے امیدواروں سے پر کر کے صوبے کے عوام کی حق تلفی کے خاتمے کو یقینی بنا نے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں،رکن صوبائی اسمبلی کشور احمد جتک نے قرارداد نمبر104ایوان میں پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان قبائلی روایات کے امین اور منفر حیثیت کا حامل ہے جہاں خواتین کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں نادرا اور پاسپورٹ کے دفاتر میں خواتین فو ٹو گرافر نہ ہونے کی بنا مرد اہلکار خواتین کی تصاویر اتارتے ہیں جو بائلی روایات کے خلاف ہے لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفار ش کر تا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ صوبے بلوچستان میں نادرا اور پاسپورٹ کے دفاتر میں خواتین فوٹو گرافر تعیناتی کو یقینی بنائے جبکہ اسپیکر نے اپوزیشن اراکین کی لائی گئی قراردادیں ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا حکومتی اراکین کی جانب سے پیش کی گئی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید اچکزئی نے کہاہے کہ بلوچستان میں وفاق کے دونوں محکمے نادرا اور پاسپورٹ کرپٹ ترین محکمے ہیں اور رشوت کے بغیر نہ تو شناختی کارڈ بناتا ہے اور نہ ہی پاسپورٹ اور ایف آئی اے حکام نے جس طرح جعلی شناختی کارڈ کا ڈرامہ رچا کر قلعہ عبداللہ کو ٹارگٹ کیا یہ بالکل غلط اور ڈرامہ ہے جس کو بھی جعلی قراردیا جا تا ہے کسی بھی آفیسر کے دستخط تو موجود ہونگے جدید دور میں بھی نادرا اور ایف آئی اے حکام لو گوں کو گرفتار کر نے میں ناکام ہو چکے ہیں اور حج کے موقع پر حج آپریٹر پیسے کمانے کے خاطر تمام اداروں سے ملکر افغانستان کے لوگوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کئے جا تے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری ضلع کو بدنام کر نے کی کوشش کر رہے ہیں پشتونخوامیپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ نادرا اور پاسپورٹ حکومت کو بلا کر اراکین اسمبلی کے شکایت سنی جائے صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ژوب اور کاکڑ خراسان میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے شناختی کارڈ کو بھی بلاک کیا ہے مندوخیل قبیلہ ژوب کے علاوہ کسی بھی علاقے میں موجود نہیں ہے ۔