|

وقتِ اشاعت :   June 18 – 2025

ٹہرانا/واشنگٹن:ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران:
1۔ اسرائیلی فضائیہ نے *مغربی ایران میں ۴۰ فوجی اہداف* بشمول جوہری سینٹریفیوج فیکٹریاں تباہ کیں۔
2۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو *”آسان نشانہ”* قرار دیتے ہوئے دھمکی آمیز بیان جاری کیا۔
3۔ ایران کے سپریم لیڈر نے امریکہ کو خبردار کیا: *”کسی بھی حملے کے ناقابل تلافی نتائج ہوں گے”*۔

اہم پیشرفتیں:
01۔ امریکہ کی جنگی رٹ:*
نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا: “ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے فوجی آپشن میز پر ہے”۔
 صدر ٹرمپ کا الزام: “ایران نے جوہری معاہدہ مسترد کر کے جنگ کو دعوت دی”۔

02۔ پاکستان کے اقدامات:*
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی پارلیمنٹ میں بریفنگ: “ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے اگر اسرائیل جارحیت بند کرے”۔
 ایران پاک سرحد پر *۵ کراسنگ بند*، ۵۰۰ سے زائد پاکستانی شہری واپس آئے۔
 وزارت خارجہ کا بیان: “اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں”۔

03۔ علاقائی اثرات:*
ماہرینِ دفاع کا خدشہ: “اسرائیل کا ایرانی فضائیہ پر دعویٰ پاکستان کی مغربی سرحد کیلئے خطرہ”۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں (BLA, BLF) کے سرحدی نقل و حرکت کا الرٹ۔

04۔ عالمی ردعمل:*
 امریکی کانگریس میں “ایران وار پاورز ایکٹ” متعارف: صدر کو جنگ میں شمولیت کیلئے کانگریس کی منظوری لازمی۔
 قطر کے امیر کو ایران کے نئے صدر کا خط: خفیہ سفارتی کوششوں کی تصدیق۔

آخری اطلاعات:
 ایرانی ذرائع: تہران میں دھماکوں* کی اطلاعات، جوہری سہولیات کو نقصان۔
 اسرائیلی فوج کا دعویٰ: “۴۰ میزائل اڈوں، اسلحہ ڈپوؤں اور فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا”۔

 تجزیہ:
ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کو “سرخ لکیر” قرار دے رہی ہے، جبکہ ایران مسلسل جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے انکار کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے تشویش کا بنیادی محور علاقائی استحکام اور ممکنہ پناہ گزینوں کا بحران ہے۔

*اختتامی نوٹ:* دونوں اطراف سے جاری جنگی بیانیے اور فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کو نئی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔