کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری خزانہ کیس کو بنیاد بناکر پارٹی کو نشانہ بنانے والے موسمی سیاستدان اپنے ماضی اور حال کی کرپشن ،بیڈگورننس ،ڈکٹیٹر شپ ،شاہی مزاج کو دھونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بہتر طرز حکمرانی کے باعث پارٹی پر تنقید کرنے والے لیڈر تو سات سال تک بلوچستان سے باغی رہا چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے والے تو 7سال تک صرف اخباری بیانات کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی جدوجہدمیں مصروف رہے نیشنل پارٹی پرتنقید کرنے والا تو اپنے سیکرٹری جنرل کی شہادت پرانکے خاندان سے تعزیت اورفاتحہ خوانی تک کی جرات نہیں کی اسی رہنما کے بقول کہ جب بلوچستان کے حالات مخدوش تھے تو انکے سینکڑوں کارکنوں کو شہید کیا گیا موصوف بتائیں کہ اس نے کتنے شہید کارکنوں کے گھر جاکر تعزیت کی اپنی پارٹی اور کارکنوں کو چھوڑ کر بلوچستان اور ملک سے فرار میں ہی اپنی عافیت سمجھی آج موصوف کو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور انکی حکومت کی مرہون منت ہونا چاہئے موصوف بلوچستان میں جلسے ،ریلیاں ،پارٹی کونسل سیشن اور مرکزی کمیٹی کے اجلاس منعقد کرتے ہیں ہماری حکومت ہی نے موصوف کے سیاست کے ماحول کو سازگار بناکران کی بلوچستان آمد پر انکو خوش آمدید کہا ۔ترجمان نے کہا کہ موصوف اورانکی جماعت کا یہی المیہ رہا ہے کہ سخت حالات میں رائے فرار اختیار کرو حالات بہتر ہوں تو بڑی بڑی باتیں اور ڈائیلاگ بازی سے انقلابی بننے کا تاثر دینا اس لیڈر اور جماعت کا خاصہ رہا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ اکیسویں صدی میں صرف باتیں ،بیان بازی ،دشنام طرازی کا سیاست کی گنجائش نہیں بے عمل اور روایتی سیاست دم توڑ چکی ہے موصوف تو دبئی سے چنددنوں کیلئے بلوچستان کے دورے پرآکر اگر سمجھتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے عوام کو اپنی جادو گرانہ زبان اور چال بازیوں سے بے وقوف بنائیں گے تو یہ انکی خام خیالی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کا جو چ یف ایگزیکٹو کرپشن میں ملوث ہوتا ہے تواسکے بھائی سے ڈالروں کا بیگ ملتا ہے جوکہ بدقسمت صوبے کی تاریخ کا المیہ ہے۔