|

وقتِ اشاعت :   May 23 – 2016

چمن: صوبائی وزیر داخلہ میر سر فراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوشکی کے قریب حملے میں ہلاک شخص کی کی شناخت طالبان رہنما کی نہیں کر سکتے ان کی نعش شناخت کیلئے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں جو حقائق ہے وہ سامنے لائیں گے سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئروں کی حفاظت کیلئے ایک ڈویژن فوج تعینات کر دی گئی ہے چند سو افراد کیلئے اپنے اقتصادی منصوبے داوء پر نہیں لگا سکتے اغوا کی وارداتوں میں ملوث افراد کی جلد خاتمہ کر دیں گے ان خیالات کا اظہار چمن میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا مزیدکہا کہ بلوچستان میں را کی مداخلت کی وجہ سے حالات خراب کیا جارہا ہے اور بلوچستان میں کوئی بھی ناراض بلوچ نہیں جو بھی (را) انڈیا کی خفیہ ایجنسی کی مدد سے دہشت گردی کے کارروائی کر رہے وہ غداراور دہشت گرد ہے ان دہشت گردوں کی خلاف سخت ایکشن لیا جارہا ہے ان کا واضح ثبوت کل بھوشن یادیو کی گرفتاری ہے مزید کہا ڈی پی اوجہانزیب کاکڑ بلوچستان اور پورے پاکستان کے پولیس کے اہم اور ایماندار پولیس آفیسروں میں سے ایک تھا کسی محکمے میں اس طرح کے ایماندار آفیسر بہت عرصے بعد پیدا ہوتے ہے جہانزیب کاکڑکی نا گہانی موت کی میں مذمت کرتا ہوں جہانزیب کاکڑ کی پوسٹ مارٹم رپوٹ کی بعد انکواری عمل میں لائی جائی گی اوردو ہفتوں کے دوران پشتون بیلٹ میں اغوا برائے تاوان کے وارداتوں کے باعث وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناو اللہ زہری نے مجھے ٹاسک دیا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے اور اغوا کاروں کو جلد گرفتار کر کے کے قرار واقع سزا دی جائی گی صحافی کی سوال پر انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان میں کافی حد تک امن وامان کی حالات کنٹرول میں ہے باڈر کی وجہ سے بلوچستان کے حالات خراب ہوئے ہے جب تک پاک افغان باڈر مضبوط نہ کیا جائے تب تک بلوچستان میں حالت ٹھیک نہیں ہوسکتے ایک سوال پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم بلوچستان میں ضرب عضب طرز کا آپریشن فوج کی مدد سے نہیں کرائیں گے بلکہ جب بھی بلوچستان میں کہی بھی آپریشن کی ضرورت پڑئے گی تو ہم ایف سی لیویز اور پولیس سے ہی آپریشن کرائیں گے ۔