لاہور:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 جولائی سے شروع ہونے والے آئندہ پندرہ روز کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور درآمدی پریمیم میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بالترتیب 5 روپے 25 پیسے اور 6 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہو کر یہ 272 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہونے کی توقع ہے، جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ یہ 279 روپے 48 پیسے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم حتمی قیمتوں کا اعلان حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ اس کے برعکس، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بالترتیب 3 روپے 80 پیسے اور 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر کمی کی توقع ہے۔
اس وقت پیٹرول کی قیمت 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہے، جو 30 جون کو 8 روپے 36 پیسے کے اضافے کے بعد مقرر ہوئی تھی۔ڈیزل، جو کہ بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور ریل گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس وقت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہے۔ اگرچہ پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) صفر ہے، مگر حکومت پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر قریباً 98 روپے فی لیٹر تک کا مجموعی لیوی وصول کر رہی ہے۔