بیجنگ : چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبہ جلد شروع ہوا اور تیزی سے فروغ پا گیا ہے،اس کے ساتھ متعدد اہم منصوبے بھی شروع کئے گئے۔ الماتے میں چینی اور قازقستان کے صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈز منصوبہ اچھے آغاز کے ساتھ خوش اسلوبی سے شروع ہوا اور ابتدائی مرحلے میں ہی کافی اہم کامیابیاں حاصل کرلی ہیں۔ وانگ ژی نے کہا کہ شاہرائے ریشم اقتصادی بیلٹ کی تجویز سب سے پہلے چینی صدر شی چن پنگ نے قازقستان میں پیش کی تھی، بعد ازاں چینی صدر نے جنوب مشرقی ایشیاء میں ’’اکیسویں صدی کی بحری شاہرائے ریشم‘‘ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی، ون بیلٹ ون روڈز کی تجویز ایشیاء اور یورپ کے مختلف ممالک میں تعاون کو فروغ دینے کی عوام کی مشترکہ امید کے عین مطابق ہے اور یہ ترقی کے عالمی رجحان کے عین مطابق ہے،یہ نئے تاریخی حالات کے تحت چین کی ہمہ گیر سیاحت اور کھلے پن دونوں میں ایک اہم اقدام ہے اور ایشیاء اور یورپی خطوں کو چین کی طرف سے فراہم کی جانے والی انتہائی اہم پبلک سروس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں کافی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، ان میں بین الاقوامی اتفاق رائے میں اضافہ شامل ہے،70سے زیادہ ممالک اور تنظیموں نے اس منصوبے میں شامل ہونے پر رضا مندی اور اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، ون بیلٹ ون روڈز کے روایتی علاقے میں توسیع کی گئی ہے جو کہ بنیادی طور پرزبردست اثرورسوخ کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کا فریم بن گیا ہے، اس کے ساتھ ہی 34 ممالک کو بین الاقوامی تنظیموں نے ون بیلٹ ون روڈ کی تعمیر کیلئے چین کے ساتھ بین الحکومتی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، جس کی بنیاد پرتعاون کے تفصیلی منصوبے مرتب کئے جائیں گے۔ گزشتہ ماہ وانگ نے چینی وزارت خارجہ کی نمائندگی کی اوراقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیاء و بحرالکائل کے ساتھ تعاون کیلئے خواہش کے معاہدے پر دستخط کئے، جس کا زبردست علامتی مطلب ہے۔مالیاتی سپورٹ میکانیزم نے کام کرنا شروع کر دیا ہے، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک(اے آئی آئی بی) نے رواں سال کے اوائل میں کام کرنا شروع کر دیا ہے، سلک روڈ فنڈ نے باضابطہ طور پر سرمایہ کاری منصوبوں کے پہلے بیج کا آغاز کر دیا ہے، اس لائن کے ساتھ واقع ممالک نے ہر قسم کے دوطرفہ تعاون کو توسیع دینے یا قائم کرنے پر سرگرمی سے غور شروع کر دیا ہے، مالیاتی تعاون تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے جو کہ اہم منصوبوں کی تعمیر کیلئے زبردست سپورٹ کا حامل ہے، رابطیکا عمل ون روڈ ون بیلٹ منصوبے کا بنیادی پراجیکٹ ہے، ایشیائی اور یورپی خطے کے بارے میں بری، بحری اور فضائی رابطوں میں بہتری سے تعاون کے بہتر حالات پیدا ہوں گے اس وقت ہنگری اور سعودیہ کے درمیان ریلوے کی تعمیر اور انڈونیشیاء میں تیزرفتار ریلوے کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے، چین اور لاؤس، چین اور تھائی لینڈ کو ملانے کیلئے ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے علاوہ متعددہائی وے پراجیکٹ بھی شروع کئے جا چکے ہیں