|

وقتِ اشاعت :   July 29 – 2025

کوئٹہ :  وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے کہا کہ بلوچستان کے بچوں کے لئے سکالر شپ میں خاصا حصہ رکھا ہے اور طلباء کے استعداد کار کو بڑھانے کے لئے 54 ہزار بچوں کو تربیت دی جاچکی ہے اور صوبے کے 35 اضلاع میں بچوں کو تربیت دی جارہی ہے تاکہ خواتین کو با اختیار بنایا جاسکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر دیگر آفیسران اور حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کوئٹہ کا مقصد بلوچستان نیوٹیک کو وزٹ کرنا تھا کہ دیگر صوبوں کی طرح یہاں تمام تر مراعات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئٹہ پہنچتے ہی سب سے پہلے بیوٹمز یونیورسٹی کا دورہ کیایونیورسٹی میں کام بہت موثر طریقے سے کیا جا رہا ہے

بلوچستان میں چیلنجز ہیں، مگر خوش آئند بات یہ ہے کے اس کے باوجود بچیوں کو اسکلز فراہم کی جا رہی ہیں

نیوٹیک کے ذریعے خواتین کو صرف سلائی کڑھائی کے علاوہ دیگر آئی ٹی کی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ کھڑے ہیں بلوچستان کے بچوں کے لئے سکالرشپ میں ایک خاص حصہ رکھا جاتا ہے طلبہ کے لئے کیپسٹی بلڈنگ کا کام بھی شروع کیا جا رہا ہے اب تک 54 ہزار کے قریب بچوں کو تربیت دی جا چکی ہے بلوچستان کے 35 اضلاع میں بچوں کو ٹریننگ دی جا رہی ہے خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ امپاور بھی کیا جا رہا ہے

ہاسپیٹیلٹی، ہیلتھ کیئر سروسز، کنسٹرکشن، زراعت سمیت بہت سے اداروں کے لئے ٹریننگ دی جا رہی ہے بیف سکالرشپ بلوچستان کے بچوں کو دیا جا رہا ہے جس کا مقصد بچوں کو تعلیم اور تربیت کے حوالے سے سہولیات فراہم کرنا ہے۔