کوئٹہ : سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے بیان میں کہا گیا ہے محکمہ صحت بلوچستان مکمل طور پر چند مخصوص کرپٹ عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔
ایک جانب بخشو 47، اسکا سیکرٹری مجو منشی ،اور ِٹنگو ٹھیکیدار ڈی جی ہیلتھ نے محکمہ صحت کو اپنی ذاتی کمائی اور کمیشن کا اڈا بنا رکھا ہے، تو دوسری جانب عوامی صحت کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔محکمہ صحت کا پورا نظام صرف ٹینڈرز، کمیشن، کرپشن اور مالی خوردبرد کے گرد گھوم رہا ہے۔
ہسپتالوں میں “ایک ٹائٹل ہٹا، دوسرا لگا” کا کھیل جاری ہے جبکہ زمینی سطح پر صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔وزیر صحت اور اس کی ٹیم میڈیا پر جو شوبازیاں کر رہی ہے، وہ صرف دکھاوا ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ان تمام بے بنیاد دعوں کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان بہت جلد ایک تفصیلی پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا اور عوام کے سامنے ان تمام حقائق کو لائے گی جس میں بتایا جائے گا کہ محکمہ صحت کے اندر عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے فنڈز کا کس طرح بیدردی سے غلط استعمال ہو رہا ہے،
اور اس کرپشن میں کون کون ملوث ہے۔یہ پریس کانفرنس صرف بیانات تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ ہم ثبوتوں کے ساتھ ان عناصر کو عوامی عدالت میں لا کھڑا کریں گے۔ محکمہ صحت کے تمام شوبلے اور دکھاوے بے نقاب کیے جائیں گے تاکہ عوام کو اصل چہرے دکھائے جا سکیں۔