کراچی: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے ساری زندگی وطن دوست سیاست اور جدوجہد کرتے ہوئے اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک اور اخلاص و ایمانداری کے ساتھ پارٹی اور تحریک کو وسیع اور منظم کرتے ہوئے انتھک محنت و قربانیوں پر مبنی زندگی گزاری انہیں اپنی شہادت کے متعلق پہلے سے معلوم تھا اور بہت سے لوگ انہیں یہ کہتے رہے کہ آپ اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرتے ہوئے احتیاط کریں
لیکن ملی شہید نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اگر میں خود بھی اس حقیقی راہ پر نہ چلوں تو وطن اور قوم سے محبت ملی جذبہ اور جاری جدوجہد سے بے وفائی ہوگی اور ملت میں بیچارگی اور خوف کی فضاء پیدا ہوگی جو ناقابل قبول ہے بلکہ اپنی جان اور اولاد یا عزیز و اقارب سے وطن اور ملت کی محبت زیادہ اہم ہے پشتونخوا وطن کے سیاسی جمہوری قوتوں کو متحد ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں ورنہ پشتون غیور عوام پشتون قیادت کے خلاف اْٹھ کھڑے ہونگے،
وہ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی چوتھی برسی کی مناسب سے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جس سے صوبہ سندھ کے صدر سید صدیق آغا، جنوبی پشتونخوا کے صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان، صوبائی سیکریٹری محمد شفیع ترین،محمد یونس ایڈوکیٹ اور پشتونخوا ایس او کے رہنما ظہورخان کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔جبکہ سٹیج سیکریٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکریٹری نظام خان نے سرانجام دیئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ منظور خان نے حاصل کی۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی تمام زندگی پر مبنی قربانیوں سے لبریز جدوجہد نے پارٹی کو ایک حقیقی قومی تحریک کی شکل دی اور انہوں نے عوامی اور پارلیمانی دونوں محاذوں پر اپنے ملت اور محکوم اقوام وعوام کی جرات مندانہ نمائندگی کرتے ہوئے بالادست قوم کے استعماری پالیسیوں کے خلاف مؤثر آواز بلند کی اور اپنے پارٹی کو وسیع اور منظم بنانے، ملک کے جمہوری تحریکوں اور محکوم اقوام ومظلوم عوام کے حقوق و اختیارات کے حصول کیلئے تاریخی کردار ادا کیا
اْن کی انتھک محنت اور جدوجہد نے پشتون قومی تحریک میں مرکزی کردار اپنا لیا اور اْن کی سیاسی بصیرت اور انتھک جدوجہدبالادست قوم کے استعماری اداروں کو قابل قبول نہیں تھی اسی لئے انہیں شہید کیا گیا تاکہ پشتون قومی سیاسی تحریک کی جدوجہدکو کمزور کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک کا آئین اور پارلیمان پشتونوں اور محکوم اقوام کو قومی واک واختیار اور اپنے وسائل پر حق ملکیت دینے کیلئے تیار نہیں بلکہ موجودہ آئین و پارلیمان کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے اور صرف بالادست قوم کے مفادات کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نیکہا کہ سابقہ فاٹا کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں رہا انہیں جعل سازی کے ذریعے قبضہ کیا گیا اور اب سوات، چترال تا سبی تک پشتونخوا وطن کے معدنی وسائل، زرخیز زمینوں، جنگلات اور تاریخی پہاڑی سلسلوں پر بوگس الاٹمنٹ کے ذریعے قبضے جاری ہے اور ہمارے دو قومی صوبے میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ کی جعلی منظوری اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے حالانکہ موجودہ ملکی آئین اور اٹھارویں ترمیم میں تمام معدنی وسائل پر صوبوں کا حق تسلیم کیا گیا ہے جبکہ بالادست پنجاب اور اْن کے ادارے ملکی آئین اور اٹھارویں ترمیم پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں جن لوگوں نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پاس کیا ہے عوام اْن کا ضرور احتساب کریگی۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر بدترین دہشتگردی، بدامنی، لاقانونیت مسلط کی گئی ہے باجوڑ، سابقہ فاٹا، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان سمیت جنوبی پشتونخوا پر سنگین صورتحال مسلط ہے صدر ٹرمپ کے اعلان کا مقصد پشتونخوا وطن پر قبضے کے مترادف ہے کیونکہ تیل کے ذخائر اور مختلف معدنیات کے ذخائر صرف پشتونخوا وطن میں موجود ہے نیفرائٹ جیسے معدنیات کا ایک ٹن کروڑوں روپے میں ہے اور بالادست قوم ان وسائل کو لوٹنے کیلئے معاہدے کررہے ہیں اور اپنے وطن لاہور سمیت پنجاب کو آباد کررہے ہیں صرف لاہور شہر کی خوبصورتی کا ایک سال کا خرچہ 50 ارب سے زائد ہے
گزشتہ سال وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو 4500 ارب روپے دیئے جبکہ پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی اس محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کی آبادی ملک میں سب سے زیادہ ہے سندھ اور پنجاب میں 3 کروڑ سے زائد پشتونوں کی آبادی ہے این ایف سی ایوارڈ میں پشتونوں کی اس آبادی کی بنیاد پر فنڈ اور نوکریاں ملتی ہے لیکن سندھ اور پنجاب میں پشتونوں کو کوئی حصہ نہیں ملتا بلکہ پشتونوں کی شہریت اور قومی حیثیت تک کو تسلیم نہیں کیا جاتا حالانکہ اس ملک میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشتون قوم نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہے اور انہیں اپنے وطن میں بدترین غربت، بے روزگاری، درپدری اور مسلسل نسل کشی کا سامنا ہے اور دوسری طرف اذیت ناک مسافرانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون ملت کے سیاسی جمہوری قوتوں نے پشتونخواوطن میں دہشتگردی، لاقانونیت، بدامنی کے خاتمے، امن وامان کی بحالی، اپنے وسائل پر اپنا اختیار اور قومی اسمبلی میں برابری کی بنیادی پر نمائندگی حاصل کرنے کیلئے ایک ہونا ہوگاپشتونخوا وطن کے پارٹیوں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جے یو آئی، اے این پی، پی ٹی ایم، این ڈی ایم، قومی وطن پارٹی اور ملک گیر پارٹیوں کے پشتونوں کو آل پارٹیز کانفرنس بلا کر لائحہ عمل طے کرنا چاہیئے پشتونخوانیپ اس اتحاد میں کسی کریڈٹ کا دعویدار نہیں بلکہ جدوجہد کے دوران صف اول میں ہر قربانی کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون تاجربرادری، کاروباری افراد سے ٹیکس وصولی کے باوجود بھتہ خوری ناقابل برداشت ہے اور یوسف گوٹھ جیسے علاقوں میں تجاری گوداموں کا انہدام قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور اْن کے انتظامیہ کے ذریعے پشتون قومی رہنما علی وزیر کی بلاجواز قید وبند پشتون ملت کیلئے سوالیہ نشان ہے کیونکہ سندھ حکومت پنجاب کے استعماری اداروں کے کہنے پر علی وزیر کو غیر قانونی اور دروغ گوئی پر مبنی مقدمات میں قید وبند میں رکھا گیا ہے پیپلز پارٹی کی حکومت علی وزیر کی رہائی کیلئے فوری اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کی محنت قابل ستائش ہے پارٹی عہدیدار اور کارکن پارٹی کو مزید وسیع اور منظم بنانے کیلئے اپنے صلاحیتوں کو مزید بروئے کار لائے اور پشتونخوانیپ کو پشتون قومی سیاسی تحریک کے صف اول کے نمائندہ پارٹی بنانے میں دن رات محنت کریں۔