کوئٹہ: حق دو بلوچستان کولانگ مارچ کے مطالبات کی منظوری کے بعد حکومت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات کی یقین دہانی اور اسلام آباد میں موجود بلوچی ماؤں اور بہنوں کی فریاد سننے اور اْن کے مطالبات پر مذاکرات کیلئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے خواتین وزراء کا ایک وفد بھیجنے کی یقین دہانی کروائی۔
بعدازاں امیر جماعتِ اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ جماعت اسلامی کے اعلی سطحی وفد کے ہمراہ مسنگ پرسن کی بازیابی سیاسی کارکنان کی رہائی کیلئے ہونے والے ماؤں اور بہنوں کے دھرنے میں پہنچے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ سمیت دیگر مظاہرین سے گفتگو کی۔
ساتھ ہی اْن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور اْن کے ساتھ ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد بلوچستان کاحقیقی انسانی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے مائیں بہنیں پریشان خاندان کے خاندان کرب وازیت کے شکار ہیں جماعت اسلامی حق دوبلوچستان لانگ مارچ کے مطالبات میں اہم مطالبہ یہی تھاکہ کہ بے گناہ لاتعلق افرادکورہااورجومجرم ہیں ثبوتوں کیساتھ عدالت کے حوالے کیاجائے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔