اسلام آباد: افغانستان میں کالعدم تنظیمیں داعش، ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ مل کر کرکام کررہی ہیں ،
افغانستان میں کالعدم دہشت گرد گروپس کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ،پاکستان طویل عرصہ سے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتا آیا ہے ۔
اقوام متحدہ نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی 36ویں رپورٹ بھی جاری کردی ۔
مذکورہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایم ٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہے ۔
رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کا ذکر کیا گیا ہے کالعدم تنظیمیں داعش ، ٹی ٹی پی اور القاعدہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ کام کررہی ہیں ۔
رپورٹ میں دہشت گرد گرو پس کی افغانستان میں موجودگی کی بناء پر علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی تشویش کا نمایاں ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان میں کالعدم دہشت گرد گروپس کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ، ٹی ٹی پی ،داعش القاعدہ ، سی ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی افغان عبوری حکومت کی مدد سے سرگرم ہیں اور اس حوالے سے پاکستان طویل عرصہ سے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتا آیا ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کے پاس 6 ہزار جنگجو ہیں اور انھیں افغان حکام کی لاجسٹک اور آپریشنل مدد حاصل ہے ٹی ٹی پی کو خطرناک ترین ہتھیاروں تک بھی رسائی حاصل ہے اس کے علاوہ ٹی ٹی پی کے داعش خراسان کے ساتھ بھی روابط موجود ہیں
اصل میں یہ دونوں گروپ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا قریبی گٹھ جوڑ ہے یہ ولی کوٹ ،شرابیک سمیت 4 تربیتی کیمپ مشترکہ چلاتے ہیں جبکہ القاعدہ انھیں نظریاتی اور ہتھیاروں کی تربیت دیتی ہے ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آئی ایس کے پی کے پاس افغانستان میں 2 ہزار جنگجو ہیں یہ جنگجو بھی افغان دھڑوں سے حمایت لیتے ہیں ۔ رپورٹ میں افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور اسکے دوسرے دہشتگرد گروپس کے تعلق کا بھی بتایا گیا ہے۔اے کیو آئی ایس افغان صوبے غزنی,ہلمند،قندھار ،کنڑ ،ارضغان اور زابل میں موجود ہیں ۔
رپورٹ میں افغان عبوری حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغان عبوری حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس رپورٹ میں اٹھائے گئے خدشات پر ایکشن لے اور دوحہ معاہدے کے تحت اپنی زمہ داریاں پوری کرے افغان عبوری حکومت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سر زمین استعمال نہ ہونے دے پاکستان افغانستان سے ہونیوالی دہشت گردی کا خصوصی طور پر شکار ہے افغان عبوری حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروپس کے خلاف فوری کارروائی کرے۔