کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ اس وقت تک فعال نہیں ہوسکتی
جب تک مقامی لوگوں کو بجلی، پانی اور روزگار فراہم نہیں کیا اگر فعال کرنے کی کوشش کی گئی تو ہماری لاشوں سے گزرنا پڑے گا۔ وفاق ہمارے 8 نکاتی مطالبے پر وعدے کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائیں 6 ماہ میں اس پر عمل نہ کیا گیا تو کوئٹہ سے جی ایچ کیو تک دوبارہ احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو جماعت کے دیگر عہدیداروں زاہد اختر بلوچ، بشیر احمد ماندائی، عبدالنعیم رند، عبدالولی شاکر اور دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہم نے بلوچستان میں ہونے والے مظالم جس میں صوبے میں جاری بد امنی لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ روکنے گالی اور گولی کی پالیسی ترک کرکے ایف سی کو بے دخل اور چیک پوسٹوں پر ہماری مائوں بہنوں اور بزرگوں کی تذلیل بند کرنے کے علاوہ بارڈروں کی بندش کا خاتمہ ٹرالر مافیا کی روک تھام لاپتہ افراد کی بازیابی مسخ شدہ نعشوں اور جبری گمشدگیوں کی روک تھام سیاسی آزادی ، سیاسی اسیران کی رہائی اور صوبے کے قدرتی وسائل پر لوگوں کی دسترس اور ساحل و وسائل کی بندر بانٹ کے سلسلے کی روک تھام کے لئے 25 جولائی کو کوئٹہ سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا
لیکن پنجاب حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں لیکن پنجاب کے لوگوں نے ہمارا بھر پور استقبال کیا اور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت جوکہ صوبے کے لوگوں کی ترجمان اور وکیل بننے کی بجائے طاقتور حلقوں کی وکیل بنی ہوئی ہے جو درست نہیں انہیں اپنے لوگوں کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ بلوچستان اسمبلی میں اٹھائے گئے اقدامات اور قرار دادوں ، سوالات کی کوئی حیثیت نہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج کے دوران 8 نکات پر عملدرآمد کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہماری کوشش ہے
کہ مقررہ مدت 6 ماہ کے دوران ہمارے مطالبات پر عملدرآمد کو یقینی بناکر بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کی فراہمی لاپتہ افراد ، مسخ شدہ نعشوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر مسائل سے چھٹکارا ملے گا اور انہیں روزگار میسر ہوگا انہوں نے کہاکہ ہم نے پر امن جدوجہد کرکے اپنے لوگوں کی آواز وفاق اور حکام بالا تک پہنچائی ہے اگر ہمارے 8 نکات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو 6 ماہ کی مدت کے دوران ہم دیگر سیاسی ، مذہبی جماعتوں تاجر تنظیموں سمیت تمام اسٹیک ہولڈر کے ساتھ باہمی مشاورت سے اپنا جرگہ منعقد کرکے وفاق سے بات کرنے کے لئے جائیں گے کیونکہ اس سے قبل بھی ہم نے 6 ماہ کی مدت میں لوگوں کو بیدار کرکے کوئٹہ سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا اور گوادر پورٹ کو فعال بنانے کے لئے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ وہاں کے لوگوں کے پاس پانی بجلی اور روزگار نہیں ہے اگر اس کو فعال بنایا گیا
اور ہمارے لوگوں کو ان مشکلات سے چھٹکارا نہ دلایا گیا تو پورٹ کی فعالیت ہماری لاشوں سے گزر کر ممکن ہوگی اور معاہدوں کو منظر عام پر لایا جائے اور چیک پوسٹوں پر ہمارے لوگوں کی تذلیل بند کی جائے اور ہماری مائوں، بہنوں کو گالی دینے کا سلسلہ بھی ختم کیا جائے ہمارے چوکیدار ہمارے لئے مشکلات پیدا نہ کریں کیونکہ حکمران خود صوبے کے لئے مسائل پیدا کررہے ہیں صوبے میں چار گھنٹے صرف حکومت کی رٹ ہوتی ہے 20 گھنٹے حکومت غائب ہوتی ہے اور ایس ایچ او کی مار قرار دینے اور 1500 لوگ کہنے والے کہاں چھپے ہیں انہیں اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے چوکیدار کو امن وامان کی بحالی کے لئے 80 ارب روپے دیئے جارہے ہیں وہ انہیں آلو چھولے کھانے کے لئے نہیں دیئے جاتے بلکہ اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے دیئے جاتے ہیں جس کو نبھانے سے وہ قاصر ہیں
اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم کوئٹہ سے اسلام آباد تک احتجاج کرتے ہوئے جی ایچ کیو تک دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات اور روزگار کی فراہمی ممکن بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہے
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگوں کو روزگار دینے کی بجائے بے روزگار کررہی ہے جس کا واضح ثبوت لوکل ٹرانسپورٹروں کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہوئے ان کی پرانی بسوں کو بند کررہی ہے حکومت انہیں نئی بسیں لیکر دے تاکہ ان کا روزگار چل سکے ہم اپنے لوگوں اور ٹرانسپورٹروں کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے اسمبلی فلور سمیت ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے