|

وقتِ اشاعت :   August 9 – 2025

کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے حصول،عوام کی جان ومال اورمعدنیات بچانے،لاقانونیت بدامنی بارڈربندش کے خلاف بلوچستان کے حقیقی قائدین کومتحدہوناہوگااسٹبلشمنٹ بلوچستان کے مسائل کے اصل ذمہ دار ہیں۔لاپتہ افراد کی بازیابی ضروری ہیں۔

انٹرنیٹ بندش حکومت کی ناکامی ہے۔بلوچستان میں بدامنی لاقانونیت وکرفیو کاسماں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تقاریب سے خطاب وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی بہت کمزورمنتخب نمائندے وحکومت بے اختیار ہیں جماعت اسلامی نے بلوچستان کے حقوق کے حصول لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بارڈرزبندش لاقانونیت کے خلاف لانگ مارچ کیاپنجاب وملک بھر کے وام سمیت وفاق کواپنے مسائل کی طرف متوجہ کیا۔بلوچستان کے حکمران بے اختیارہیں مقتدر قوتیں اسٹیبلشمنٹ نے وسائل واختیارات پرقبضہ کیاہے

بلوچستان کے وسائل معدنیات کوبے دردی سے لوٹاجارہاہے برائے نام حکومت ہیں نہ عوام کے مسائل مشکلات وپریشانی کاکسی کوفکرنہیں۔مسلط قوتوں کووسائل اختیارات اورمراعات سے سروکار ہیں عوام بدحال نوجوان بے روزگارتاجروں کی تجارت بندہیں مین شاہراہیں محفوظ ہیں

نہ شہروشہری محفوظ ہیں سیکورٹی کیلئے رکھے گیے 85ارب عوام کی جان ومال کے حفاظت کے بجائے سیکورٹی اداروں اوروی وی آئی پیزکی حفاظت کیلئے خرچ ہورہی ہیں ہرطرف اندھیرنگری مایوسی پریشانی غربت وبے روزگاری عام ہیں بارڈربندش نے 25لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیاہے

مقتدرقوتوں کاہرچیزپرقبضے کے بعدعوام عدلیہ میڈیاوحکمرانوں سے بھی مایوس ہوگئے ہیں بے اختیارعدلیہ کنٹرول حکومت کنٹرول میڈیاجعلی نمائندوں کی موجودگی میں پریشان حال عوام جائے توجائے کہاں۔جماعت اسلامی بلوچستان کی قیادت وعوام کومتحدکرنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ سب ملکربلوچستان کے حقوق کے حصول لاقانونیت بدامنی بدعنوانی اورپریشانیوں کے خاتمے لاپتہ افرادکی بازیابی کیلئے مخلصانہ عملی جدوجہد کریں