|

وقتِ اشاعت :   August 9 – 2025

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بی ایس ایف شال زون کے جنرل سیکریٹری گہرام اسحاق، جو کہ پنجگور کے رہائشی اور ایف سی کے طالب علم ہیں، کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے 24 اپریل 2025 کو شال کے سول ہسپتال سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس سے قبل، تنظیم کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوچ، جو آواران کے رہائشی اور شعبہ? قانون کے طالب علم ہیں، کو 23 اپریل 2025 کی رات تقریباً 3 بجے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ان کے رہائش گاہ پر دھاوا بول کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔

اسی طرح، 25 جولائی 2025 کو بی ایس ایف کراچی یونیورسٹی یونٹ کے انفارمیشن سیکریٹری مسلم داد کو کراچی یونیورسٹی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جنہیں یکم اگست کو باحفاظت بازیاب کیا گیا۔

مرکزی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں “اْٹھاؤ، مارو اور پھینکو” کی پالیسی دیرینہ رہی ہے، تاہم گزشتہ چھ ماہ میں اس میں انتہائی شدت آچکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر طلبہ، سیاسی کارکنان اور بلوچ نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔

ترجمان نے تصدیق کی کہ تین ماہ سے زائد عرصہ اذیت خانوں میں گزارنے کے بعد، 7 اگست 2025 کی رات بی ایس ایف شال زون کے جنرل سیکریٹری گہرام اسحاق شال سے باحفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔

تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوچ تاحال لاپتہ ہیں اور نہ تنظیم کو اور نہ ہی ان کے لواحقین کو اس بارے میں کوئی اطلاع دی جا رہی ہے کہ انہیں کس جرم کے تحت جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر اذیت خانوں کے نذر کیا گیا ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان کے اختتام پر حکومت وقت، ملکی عدالتوں اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ایف کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوچ کی بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اگر چیئرمین جاوید بلوچ سمیت تمام لاپتہ بلوچ اسیران سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو انہیں آئین اور قانون کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے۔