|

وقتِ اشاعت :   August 16 – 2025

پنجگور: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی صالح محمد بلوچ نے اپنے ایک مزمتی بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کا کرپٹ ترین محکمہ زراعت کے درجہ چہارم کے ملازمت پر بھرتی کرنے کے بہانہ بنا کر ٹیسٹ انٹرویو کے لئے کوئٹہ میں ھزاروں لوگوں کو بلا کر صرف تذلیل کرنے کیلئے حالانکہ اگر ان کو بھرتی کرنا تھا

تو بلوچستان کے ہر ڈویژن ہیڈکوارٹر میں کرتے تو غریب لوگوں کو اتنا خرچا اور اخراجات نہیں آتے انہوں نے کہا کہ پوری بلوچستان کے لاچار اور بے روزگار لوگوں کو گوادر سے لے کر ژوب تک ہزاروں لوگوں کا اجتماع لگاکر پھر ہجوم کو دیکر اپنے ہی سیکورٹی گارڈز کے زریعے ہوائی فائرنگ کروا کے اور لوگوں کو بھگایا گیا

اور خود تماشا دیکھتے رہے، صالح محمد بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تاریخ کا یہ غیر سنجیدہ ترین حکومت ہے جو غریب عوام پر مسلط ہے نو دنوں سے انٹرنیٹ بند ہے اور تین دنوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بند کرکے اس دوران بلوچستان بھر سے محکمہ زراعت کے خالی اسامیوں کو پر کرنے کا تماشا بنایا گیا ہے لیکن مجبور لوگ اس کے باوجود ہزاروں بیروزگار نوجوان یکجا ہوکر جمع ہوگئے تاریخ میں پہلی

بار یہ تجربہ کیا گیا کہ درجہ چہارم کے پوسٹ کے لیئے نادار، لاچار اور بیروزگار امیدواروں کو گوادر سے لیکر ژوب تک انٹرویو کے لیئے کوئٹہ آنا پڑا وہ بھی ایسے وقت میں جب حکومت نے خود تین روز تک پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے کے احکامات جاری کی ہیں ٹرانسپورٹ بند کرکے انٹرویو کرانا خود سارے عمل کو مشکوک بناتا ہے’ صالح محمد بلوچ نے کہا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے جن غیر مقبول لوگوں کو مسلط کیا گیا ہے انہوں نے بلوچستان میں کرپشن کا بازار گرم کرکے تباہی مچا رکھی ہے

تمام خالی اسامیوں کی بولیاں لگاکر بیروزگار نوجوانوں کا اجتماع کوئٹہ میں لگانے کے بجائے اندرون بلوچستان اضلاع میں ٹیسٹ انٹرویو کا یہ ڈرامہ کیا جاتا ویسے بھی سودا لگاکر آنے والے سرکار کو میریٹ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔