اسلام آباد: ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں گدھے کے گوشت کی کھیپ پکڑی گئی ہے،
تاہم اس کی شہر میں ترسیل یا فروخت کے شواہد نہیں ملے۔ صحافیوں سے گفتگو میں ڈاکٹر طاہرہ نے بتایا کہ جس مقام پر کارروائی کی گئی وہاں گدھے موجود تھے جنہیں ذبح کیا جا رہا تھا۔
موقع سے گدھوں کی کھالیں اور باقیات بھی برآمد ہوئیں، جن کی بنیاد پر یہ تصدیق ہوئی کہ یہ گوشت گدھے کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گدھے، گائے اور بکرے کے گوشت میں فرق کے لیے جدید پی سی آر مشین کی ضرورت ہوتی ہے**، تاہم اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے پاس فی الحال اپنی لیبارٹری نہیں ہے۔
“ہم سیمپل کو این آئی ایچ، سیمل قرشی یا این وی ایل بھجواتے ہیں اور وہیں سے نتائج ملتے ہیں”، ڈاکٹر طاہرہ نے وضاحت کی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک یہ شواہد نہیں ملے کہ گدھے کا گوشت اسلام آباد میں فروخت کیا گیا ہو۔
“یہ غیر ملکیوں کے لیے پہلی کھیپ تیار کی گئی تھی جو بروقت کارروائی کے باعث پکڑی گئی”، انہوں نے کہا۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طاہرہ نے بتایا کہ پی سی آر مشین انتہائی مہنگی ہے اور اس کی قیمت کے بارے میں فی الحال کوئی تخمینہ نہیں دیا جا سکتا۔