کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بدھ کو اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹے کی تاخیر سے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔
بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان فرانزک سائنس کا (ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 29 مصدرہ 2025 کو اور انسداد دہشت گردی بلوچستان (ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 32 مصدرہ 2025 کو مجلس کی سفارشات کے بموجب منظور کرلیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگر اس مسودہ قانون پر اپوزیشن بحث کرنا چاہتی ہے تو ہم اس کیلئے تیار ہیں۔
انسداد دہشت گردی کا قانون کسی سیاسی کارکن کیخلاف استعمال نہیں ہوگا۔
قانون کے مطابق دہشت گردوں کو سزا دیں گے۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی نے وزیر برائے محکمہ داخلہ کی جانب سے تحریک پیش کی کہ بلوچستان فرانزک سائنس کا (ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 29 مصدرہ 2025 کو مجلس کی سفارشات کے بموجب منظور کیا جائے جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی نے وزیر برائے محکمہ داخلہ کی جانب سے تحریک پیش کی کہ انسداد دہشت گردی بلوچستان (ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 32 مصدرہ 2025 کو منظور کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مسودہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس مسودہ کی منظوری کے بعد ہمیں انصاف وٹس ایپ کے ذریعے ملے گا۔
ہمیں اپنے خلاف گواہاں کا پتہ نہیں چلے گا۔
اس قانون کی منظوری کے بعد اگر کوئی بے گناہ مارا گیا تو ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔
اس قانون کو لانے کی بجائے عدالتوں میں اصلاحات لائیں۔
یہ قانون انصاف اور انسانی حقوق کا قتل ہے۔
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ قانون کسی عام قتل، کسی سیاسی کارکن پر لاگو نہیں ہونا۔
یہ وہاں لاگو ہوگا جہاں پر دہشت گردی ہوتی ہے۔
میرا بھتیجا نوابزادہ جمال رئیسانی اس ایوان میں موجود ہے۔
اس کے والد دو سو لوگوں کے ساتھ شہید ہوا۔
پوچھا جائے ان شہدا کے اہلخانہ کو انصاف ملا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے اپنے حلقہ میں آٹھ پنجابی مزدوروں کے سر پر گولیاں ماری گئیں۔
یہ حجام تھے جو باہر سے آئے تھے۔
ان کے سروں پر گولیاں مار کر بے دردی کیساتھ قتل کیا گیا۔
اس ملزم کو ہمارے اداروں، سیکورٹی فورسز اور پولیس نے ایک دن کے اندر اندر گرفتار کیا۔
یہ جو دہشت گردانہ کاروائیاں ہوتی ہیں غیرمعمولی حالات میں غیرمعمولی فیصلہ کرنے پڑتے ہیں۔
اور یہ صرف پاکستان یا بلوچستان میں نہیں۔
آپ دنیا میں دیکھ لیں۔
ان ممالک میں جہاں ہم کہتے ہیں جمہوریت ہے۔
امریکہ جیسے ملک میں جب نائن الیون کا واقعہ ہوا وہاں خصوصی قوانین بنائے گئے۔
فرانس میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا ان کی پارلیمنٹ نے ایک دن کے اندر قانون تبدیل کیا۔
انہوں نے کہا کہ 8 اگست 2016 کو جب خودکش حملہ ہوا تو اس شخص کو جس کی جس نے سہولت کاری کی اس کا نام سعید بادینی تھا۔
جو داعش کا سربراہ تھا۔
سیکورٹی ایجنسی نے اس کو گرفتار کیا۔
اس کی گرفتاری کے بعد میں اور اس وقت کی حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے آئی جی پولیس کو کہا کہ ہم اس کو پراسیکویٹ کرنا چاہتے ہیں۔
وکلا کا قتل ہوا 60 سے زیادہ وکیل مارے گئے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ اس کا اوپن ٹرائل ہو تاکہ لوگوں کو پیغام جائے۔
میں اس وقت کے چیف جسٹس کے پاس گیا۔
ان سے درخواست کی کہ ہم اس کا ٹرائل کرنا چاہتے ہیں۔
وکلا شہید ہوئے ہیں۔
یہ دہشت گردی کی جنگ ہے۔
جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ میں اس سے مبرا ہوں تو یاد رکھیں اس کو نہ روکا تو یہ ہر گھر میں آئے گی۔
جب دھرتی جلتی ہے سینہ جلتا ہے۔
اس سینہ سے پوچھیں کہ اس پر کیا گزررہی ہے۔
جو نعشیں اٹھاتے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ ان پر کیا گزررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ ملزم کو وکیل صفائی کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔
وکیل صفائی کے سامنے گواہاں پیش ہوں گے۔
یہی ججز ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے اپنے ججز اور پراسیکوٹرز کو تحفظ فراہم نہیں کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سالوں سے سیاسی جماعتیں لاپتہ افراد کے مسئلہ پر سیاست کررہی ہیں۔
لیکن کسی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
یہاں لوگ اسمبلی کے ممبر رہے، حکومتوں کی حمایت کرتے رہے۔
دس دس ارب روپے فنڈز لینے کیلئے تو ٹھیک تھے۔
لیکن کیا اس مسئلہ پر حکومت سے کبھی بات کی کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔
موجودہ حکومت ہمیشہ کیلئے لاپتہ افراد کے مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔
جو بھی شخص گرفتار ہوگا فوری اس کے اہلخانہ اور مجسٹریٹ کو اطلاع دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات کیلئے غیر معمولی قوانین بنائیں گے۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ ان قوانین کے ذریعے ہمیشہ کیلئے حل کردیں گے۔
دہشت گردی کا شکار ہم سب ہوئے ہیں۔
میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر رہا ہوں۔
ہمارے دوست ہیں ہماری پارٹی۔
ہم نے اپنی محبوب لیڈر کو اس دہشتگردی کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔
تو کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں لیڈ نہ لیں۔
جب تک پارلیمنٹ لیڈ نہیں لے گی دہشت گردی کی اس جنگ کو جیتا نہیں جاسکتا۔
جب ہماری حکومت آئی مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سب اس جنگ کو فوج اور بلوچ سرمچاروں کی جنگ سمجھتے تھے۔
یہ ریاست ہم سب کی ہے۔
اس کو کسی کو توڑنے نہیں دیں گے۔
ہم قانون سازی کریں گے۔
بلوچستان کے لوگوں نے ہم کو قانون سازی کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔
قانون کے مطابق دہشت گردوں کو سزا دی جائیگی۔
یہ قانون کسی سیاسی کارکن کیلئے نہیں بنا ہے۔
اگر کسی سیاسی کارکن کیلئے بنا ہے تو سب سے پہلے سرفراز بگٹی اس کے خلاف کھڑا ہوگا۔
ہمارا منشور دہشت گردی کو روکنا ہے۔
دہشت گردوں کے آگے سرینڈر نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم صوبے میں ایک انچ پوست کی کاشت کرنے نہیں دیں گے۔
رواں سال 35 ہزار ایکڑ پر پوست کی فصل کو تلف کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان سے آکر جو لوگ یہاں پوست کاشت کررہے ہیں اور جنہوں نے ان کو زمین دی ہے ہم ان کے پیچھے جارہے ہیں۔
ان کو سخت جواب دیں گے۔
زمین ضبط کرکے سرکار کے نام منتقل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مکران میں غیرقانونی ٹرالنگ بھی دہشت گردی ہے۔
ہم مکران میں غیر قانونی ٹرالنگ ختم کریں گے۔
بعد ازاں ایوان میں انسداد دہشت گردی بلوچستان (ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 32 مصدرہ 2025 کو منظور کرلیا گیا۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی نے وزیر برائے محکمہ داخلہ کی جانب سے تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان لیویز فورس کا مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 28 مصدرہ 2025 کو مجلس کی سفارشات کے بموجب منظور کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مسودہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔
ایوان کو آگاہ کیا جائے کہ لیویز میں کیا خامیاں ہیں۔
اور لیویز کو جہاں پولیس میں ضم کیا گیا ہے وہاں امن وامان کی صورتحال کیا بہتر ہوئی ہے۔
اس مسودہ قانون میں جو خامیاں ہیں ان کو دور کیا جائے۔
صوبائی وزیر ایری گیشن میر صادق عمرانی نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان نے ہمیشہ اسمبلی فلور پر اپوزیشن جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی دعوت دی ہے۔
اب اگر کوئی نہیں آتا تو اس کو زبردستی نہیں لاسکتے۔
ہم نے اکثریت سے فیصلہ کرنا ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ قیام امن، صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت اور اپوزیشن مل کر اپنا کردار ادا کریں۔
اسپیکر کیپٹن (ر)
عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ ایوان کی اکثریتی رائے کو ترجیح حاصل ہے۔
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگر اس مسودہ قانون پر اپوزیشن بحث کرنا چاہتی ہے تو ہم اس کیلئے تیار ہیں۔
بعد ازاں ایوان نے بلوچستان لیویز فورس کا مسودہ قانون مصدرہ 2025 مسودہ قانون نمبر 28 مصدرہ 2025 کو مجلس کی سفارشات کے بموجب منظور کرلیا۔
بعد ازاں اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس جمعہ 12 ستمبر 2025 سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا۔