|

وقتِ اشاعت :   September 12 – 2025

کوئٹہ:  بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد کرنے، کوئٹہ کے علاقے اغبرگ کو تحصیل کا درجہ دینے کی قرارداد یں منظور کرلی گئیں،

اسمبلی اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر 23ستمبر تک ملتوی۔

جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران صوبے میں ڈیموں کی تعمیر پر لاگت میں اضافے پر قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے احتجاج کیا جس پر معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیاگیا۔

اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ گوادر، پسنی اور اوماڑہ ہسپتالوں کے لیے میڈیسن کا بجٹ کتنا رکھا گیا ہے میڈیسن کی مد میں تین سالوں کے دوران کتنا بجٹ فراہم کیا گیا۔

صوبائی وزیر صحت کی جانب سے تفصیلات فراہم کرنے کے بعد توجہ دلاؤ نوٹس نمٹا دیا گیا۔

اجلاس میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ لسبیلہ اور خضدار میں مزید دو وائن شاپس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ہم ہسپتالوں کے لیے ادویات مانگ رہے ہیں اور یہاں شراب کی دکانوں کے لائسنس جاری کیے جارہے ہیں ہم اس کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔ اس موقع پر اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دی کہ جہاں وائن اسٹور قوانین سے ہٹ کر قائم ہیں انکا لائسنس منسوخ کیا جائے اگر ارکان چاہتے ہیں تو وائن اسٹورز کے خاتمے کے لیے قانون سازی کریں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن انجینئر زمر ک خان اچکزئی نے اجلاس کو ایجنڈے کے مطابق نہ چلانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری کاروائی شروع نہ کی گئی تو وہ واک آؤٹ کریں گے اجلاس میں افرار تفری مچی ہے

نہ کوئی توجہ دے رہا ہے ایسے اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں ارکان اپنی باری کا انتظار کریں اور اس وقت بولیں۔

اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے رکن نوابزادہ زرین مگسی نے مشترکہ قرار داد پیش کرنے کی اجازت دینے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظور ی دے دی، بعدازاں اے این پی کے انجینئر زمر ک خان اچکزئی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پر موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کی ہے جس کا یہ ایوان خیر مقدم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت تھی کہ یہ اقدامااٹھایا جاتا ہمارا مطالبہ ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے عوام سیلاب سے متاثر ہ ہیں بلوچستان کے عوام کا ذریعہ معاش بھی زراعت ہے صوبے میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی اداروں سے اپیل کرے تاکہ سیلاب متاثرین کی امداد کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لئے بھی عالمی اداروں نے امداد دی ہے مگر وہ یہاں پہنچتی نہیں لہذا بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

قرارداد پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی تباہی مچادی ہے، دشمن ملک نے پانی کو واٹر بم کے طور پر استعمال کیاہے، پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہیں، پنجاب میں بڑی آبادی بے گھر ہوئی ہے ہم نے ڈیم بنانے کی بجائے دریاکے کنارے آبادیاں بنانی شروع کردیں، جب دریاوں کے کنارے آبادی بسائیں گے تو اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، موجودہ سیلاب کے اثرات آنے والے وقتوں میں سامنے آئیں گے خوراک کی کمی کاسامناکرناپڑے گا۔بعدازاں ایوان نے مشترکہ قرارداد منظور کرلی۔اجلاس میں چیئرمین مجلس قائمہ بر محکمہ صحت ڈاکٹر نواز کبزئی نے بلوچستان انسٹیٹوٹ آف نیفر و یورولوجی کے ترمیمی مسودہ قانون سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جس کے بعدایوان نے بلوچستان انسٹیٹوٹ آف نیفر و یورولوجی کا ترمیمی مسودہ قوانون منظور کرلیا۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے قاعدہ 233کے تحت قواعد انضباط کار بلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ 1974میں مجوزہ ترامیم پیش کیں جنہیں ایوان نے کمیٹی کے سپرد کردیا اس موقع پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ جو بھی ارکان کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنا چاہیں انہیں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن ملک نعیم بازئی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے آغبرگ کو تحصیل کا فرجہ دینے کی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آغبرگ کوئٹہ سے 35 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، آغبرگ کی آبادی تقریباً 60 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، آغبرگ کے دائرہ کار میں متعدد دیہات شامل ہیں اور یہ علاقہ ضلع مستونگ کے حدود تک پھیلا ہوا ہے علاقے میں ہسپتال اور انٹر کالج بھی قائم ہے، مزید آغبرگ ضلع کوئٹہ کی ایک کثیر آبادی والا علاقہ بن چکا ہے،آغبرگ انتظامی لحاظ سے ایک تحصیل کے تمام بنیادی تقاضے پورے کرتا ہے، علاقے کے لوگوں کو بہتر انتظامی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم صحت اور دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے آغبرگ کو با قاعدہ طور پر تحصیل کا درجہ دیا جائے لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ عوامی مفاد اور علاقے کی ترقی کے پیش نظر آغبرگ کو فوری طور پر تحصیل کا درجہ دیا جائے۔ قرارداد پر بات کرتے ہوئے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ صوبے میں تحصیل اور سب تحصیل بنانے کی ضرورت ہے پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی بھی ضرورت ہے لہذا اغبرگ کو تحصیل کا درجہ دیا جائے۔ صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کردگیلو نے کہا کہ کابینہ نے بھی آج نئی تحصیلیں بنانے کی منظور ی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اغبرگ کو تحصیل بنانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے جائزہ لینا ہوگا کہ آیا تمام تقاضے پورے ہورہے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ بورڈ آف ریونیو میں درخواست دی جائے جس کا جائز ہ لیں گے۔ بعدازاں بلوچستان اسمبلی نے آغبرگ کو تحصیل کادرجہ دینے کی قرارداد منظور کرلی۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے نوکنڈی تاماشکیل 102کلومیٹر روڈجلد تعمیر کرنے کی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، صوبے میں آمد ورفت کے لئے پختہ شاہرا ہیں نہ ہونے کے برابر ہیں پختہ سڑکیں نہ ہونے سے علاقے کے لوگوں کو آمد و رفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو ترقی کے حوالے سے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے،جو ترقیاتی منصوبے بلوچستان میں شروع کیے گئے ہیں وہ تمام منصوبے انتہائی سست روی کا شکار ہیں ان منصوبوں میں نوکنڈی تا ماشکیل روڈ۔ جو کہ 102 کلومیٹر پر مشتمل ہے یہ منصوبہ وفاقی حکومت نے سال 2020 میں شروع کیا اور پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود روڈ پر کام کی رفتار ست روی کا شکار ہے اور تکمیل کو نہیں پہنچا ہے لہذا صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ نوکنڈی تا ماشکیل 102 کلومیٹر روڈ کی تعمیر کو جلد مکمل کرے۔میر زابد علی ریکی نے کہا کہ شاہراہ کی تعمیر کے لیے 4ارب سے زائد رقم جاری ہوئی ہے مگر صرف 15سے 16کلومیٹر روڈ بنا ہے وفاقی منصوبے کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ وفاق میں بلوچستان کے منصوبوں کے لیے انتہائی کم رقم مختص کی جاتی ہے ہمیں فنڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو نئی اسکیمات دینے کے بجائے پرانی اسکیمات مکمل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ارکان اسمبلی وزیراعظم سے ملیں اور بجٹ کے بارے میں با ت کریں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے منصوبے متاثر ہورہے ہیں۔اس پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ حکومتی ارکان ایوان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں ابھی اجلاس جاری تھا کہ رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کورم کی نشاندہی کی کورم پورانہ ہونے پر اسپیکر نے رولنگ دی کہ میر زابد علی ریکی، شاہدہ رؤف کی قراردادیں ڈیفر کی جاتی ہیں جبکہ اسمبلی کا اجلاس 23ستمبر تک ملتوی کردیا گیا۔