|

وقتِ اشاعت :   September 16 – 2025

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہےکہ دنیا میں جس کسی کے پاس بھی موبائل فون ہے، اس کے ہاتھ میں اسرائیل کا ایک ٹکڑا ہے۔

مغربی مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات کے دوران  نیتن یاہو نے کہا جو بھی موبائل فون کا مالک ہے وہ بنیادی طور پر اپنے ہاتھ میں اسرائیل کا ایک ٹکڑا اٹھائے ہوئے ہے۔

اس دوران نیتن یاہو نے اسرائیل کی  ادویات، ہتھیار اور فون بنانے کی صلاحیت کو سراہا۔

غزہ میں فوجی کارروائیوں اور ملک میں ہتھیاروں کی ترسیل پر پابندیوں پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید پر اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘کچھ ممالک نے ہتھیاروں کے اجزاء کی ترسیل روک دی ہے، لوگ کہہ رہے ہیں اب اسرائیل کا کیا ہوگا لیکن کیا ہم اس صورتحال پر قابو پا سکتے ہیں؟ ہاں ہم اس پر قابو پانے کے اہل ہیں کیونکہ ہم ہتھیار بنانے میں اچھے ہیں’۔

نیتن یاہو نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ‘کیا آپ کے پاس موبائل فونز ہیں؟ اگر ہاں تو اس کا مطلب آپ نے اسرائیل کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے، کیا آپ ٹماٹر کھاتے ہیں؟ وہ کہاں سے آتے ہیں؟ وہ بھی اسرائیل سے آتے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا ‘جس طرح انٹیلی جنس کا معاملہ ہے، جو ہم امریکا کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، آپ کی انٹیلی جنس معلومات کا ایک بڑا حصہ اسرائیل سے آتا ہے اور ہمارے ہتھیاروں کے نظام کو بھی امریکا کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے’۔