|

وقتِ اشاعت :   May 30 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء وسینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاہے کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے بل 2015کی سینیٹ سے منظوری کے بعد سائبر کرائمز میں کمی نہیں بلکہ مزید اضافہ ہوگا المیہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں وکلاء ،پولیس اور نہ ہی عوام کسی قسم کی شعور آگاہی رکھتے ہیں حکومت نے انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنا ہے تو وہ نوجوانوں کیلئے تفریحی پروگرامز اور دیگر کابندوبست کرائیں نوجوانوں اوردیگر کے مسائل کے حل کی بجائے ہر سیاسی جماعت کے قائدین کو اپنی پارٹی بچانے کی فکر لاحق ہے دنیا کے کسی بھی ملک میں اظہار رائے پر پابندی نہیں ،بل میں کئی دفعات اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے ،ان خیالات کااظہارانہوں نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں انٹرنیٹ پالیسی آبزویٹری پاکستان اور سینٹر فار گلوبل کمیونیکشن اسٹڈیز ایٹ یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے زیراہتمام ’’پاکستان اور اس میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی نقطہ نظر ‘‘کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ پاکستان اوربلوچستان ہو یا پھر یورپی ممالک تمام کے معاشروں میں واضح فرق دیکھاجاسکتاہے ،انہوں نے کہاکہ مستونگ تک بس شروع ہوئی تو اس پر تانگے والوں نے ہڑتال کرکے کہاکہ ان کا روزگار ختم ہونے جارہاہے ،ویڈیوز دیکھنے کیلئے وی سی آر متعارف کیاگیا تو سیمینا گھروں کے مالکان نے احتجاج شروع کیا تاہم یورپی دنیا میں ایسا نہیں وہ وقت کیساتھ ساتھ اپنی ضروریات کیلئے کام کررہے ہیں ،اس وقت قومی اسمبلی میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے بل 2015کی منظوری دیدی ہے ۔اب یہ بل سینیٹ کی ریسرچ کمیٹی میں زیر غور ہے جس کامیں خود بھی ممبر ہوں لیکن جوبلز قومی اسمبلی میں پاس ہوتے ہیں انہیں سینیٹ میں پاس ہونے سے روکنا آسان نہیں ہوا کرتا ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کیلئے تفریحی رابطے ،تعلیم ،ثقافت اوردیگر کے متعلق جاننے کیلئے کسی قسم کے ذرائع دستیاب نہیں اگر ہم نوجوانوں کو اس سلسلے میں کچھ نہیں دے پارہے تو پھر موبائل میں انٹرنیٹ کااستعمال سے متعلق پابندیاں کیوں عائد کی جارہی مجھے معلوم نہیں کہ آخر بل پاس کرنے والے اس کے ذریعے چاہتے کیاہیں انہوں نے کہاکہ کیا قاتلوں ،منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کیلئے عدالتوں میں دلائل دینے والے قانون دان مجرم نہیں ،انہوں نے کہاکہ جرائم پیشہ افراد جرم کرکے اپنے لئے بڑے وکلاء تک انتظام کرتے ہیں اور پھر بری ہوجاتے ہیں یہی لوگ تو بعد میں بڑے لیڈر بن کر قانون سازی بھی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ جتنی پابندیاں لگائی جائیں گی ماحول میں اتنی ہی فرسٹیشن پیداہوگی ۔انہوں نے کہاکہ دنیا نے سائنس کے میدان میں ترقی کی تیزرفتار منازل طے کی ہے مگر ہمارے ہاں یہ گنا ہ ہے وہ گناہ کے نام پر ہم سائنسی ترقی سے محروم رہ گئے ہیں یورپ میں معاشرے کامزاج بدلاہے جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں انہوں نے کہاکہ موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان تعلیم ،ثقافت ،رابطہ اور تفریح کاسامان کررہے ہیں مگر اس پر بھی قد غن لگایاجارہاہے اس وقت سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی نوجوانوں اور دیگر کے حقوق کیلئے کام کرنے کی بجائے اپنی پارٹیاں بچانے میں لگے ہوئے ہیں بتایاجائے کہ کوئٹہ میں نوجوانوں کی تفریح کیلئے کوئی تفریح پارک موجود ہے مگر ایسا نہیں یہاں تو پیسے کہیں اور سے نکل رہے ہیں انہوں نے کہاکہ دنیا میں کسی بھی ملک میں اظہار رائے پر پابندی کاقانون موجود نہیں پاکستان میں اظہار رائے پر پابندی کی کوشش کی گئی تو اس سے جرائم مزید بڑھیں گے