کوئٹہ؛ جماعت اسلامی کے صوبائی اعلامیہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول خان زرداری بھٹو کے بلوچستان کے کثیر اللسانی صوبہ کے متعلق مثبت و توانا رائے و تجزیہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا مسلئہ فوجی نہیں بلکہ سیاسی و سماجی اورہالنگ میں پوشیدہ ہیں جسے درست طور پر اختیار کرنے کی ضرورت ہے
ورنہ بے گناہوں کا خون ناحق بہتا رہے گا جماعت اسلامی کے صوبائی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے جغرافیائی و ثقافتی اہمیت و افادیت کے پیش نظر معدنیات اور سی پیک و وسطی ایشائی ممالک تک رسائی حاصل کرنا ایسا قیمتی وسیلہ ہے
جسے محدود اور غیر واضح ذہنیت نہیں سمجھتے ہیں اس لئے صوبہ کے اندر غیر لامتناہی مسائل و مباحث چھیڑے گئے ہیں جس کے باعث عام آدمی کی زندگی غیر محفوظ بنا دیا گیا ہیں اس پوری صورتحال میں بلاول خان بھٹو زرداری کا صوبہ کے اندر المناک انجام تک پہنچانے سے پہلے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش نہایت عمدہ و مؤثر تجویز پیش کیا گیا ہے جس کی تحسین پیش کرتے ہوئے خیر مقدم کرتے ہیں صوبائی مخلوط حکومت پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہوئی ہے
جماعت اسلامی چونکہ مخلوط حکومت کا حصہ ہے اس لئے جماعت اسلامی کے دونوں ممبران اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ و انجنئیر عبدالمجید بادینی مسلسل حقیقت پسندانہ موقف اور مضبوط و مستحکم تجزیے کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں کہ صوبے کے نوجوانوں کے اوپر رحم و کرم کیاجائے اور انھیں چاروں اطراف سے موت وغربت کے کھیل میں مبتلا کرنے کے بجائے تعلیم و ہنر اور ٹیکنالوجی و ڈولیپمنٹ کے مثبت و قابل قدر زاویوں سے روشناس کرایا جائے جس کے لئے پہلا قدم آپریشنز کی ذہنیت سے نکل کر زندگانی کی بنیادیں استوار کرنے کے لئے مکالمے اور نئے منظرنامہ تشکیل دینے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جائے
جماعت اسلامی نے اسی تسلسل میں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں سخت دشواری وگرم ترین موسم میں25جولائی سے 05اگست تک طویل و جانگسل تاریخی لانگ مارچ کیا تھا جس کے نتیجے میں مثبت و قابل عمل ورکنگ وفاق کے ذمے قرض بقایا ہے اور اب 19 ستمبر کو ایوب اسٹیڈیم کے تاریخی میدان میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے ویڑن و قیادت میں بنو قابل کے زیر اہتمام کوئٹہ کے تاریخ کا سب سے بڑا یوتھ گیدرنگ کا انعقاد کیا گیا جس کے دورس اثرات اور فوائد نوجوانوں و رضاکاروں طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام کے اوپر واقع ہونگے
اس لئے جماعت اسلامی اپنے اعلامیہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی سے خصوصی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مرکزی صدر جناب بلاول خان بھٹو زرداری کے ویڑن و عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وسیع و احساس دردمندی کا احاطہ لئے ہوئے ڈائلاگ و مکالمے اور نئے منظرنامہ و تجزیہ کا فیصلہ کریں جماعت اسلامی پوری دانش علمی و فکری قوت کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت و ریاست کے لمحہ موجود میں واکمنوں کی مدد و نصرت کریں گے