کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کی مرکزی کمیٹی کا چوتھا اجلاس مرکزی وائس چیئرمین فضل بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تنظیمی امور، تنقیدی نشست، قومی و عالمی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کا آغاز گزشتہ فیصلوں کے جائزے سے ہوا، جنہیں مرکزی سیکرٹری جنرل نے پیش کیا اور ان پر تفصیلی بحث کی گئی۔
مرکزی جنرل سیکریٹری نے کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تنظیمی خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی اور ان پر تعمیری تنقید کی گئی۔
جس پر اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ ان خامیوں پر قابو پانے کے لیے بھرپور اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی۔
اس موقع پر مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ قوموں میں اتحاد اور یکجہتی قائم رکھنے میں تنظیموں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
کوئی بھی قوم یا ریاست تنظیموں اور اداروں کے بغیر پائیدار استحکام حاصل نہیں کر سکتی، اور آج یہی تنظیمیں ریاستی جبر کے سامنے ایک مضبوط چٹان کی مانند کھڑی ہیں جنہیں توڑنے کی انتھک کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہی اداروں سے مستقبل کے رہنما اور کیڈر پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ادارہ جاتی بنیادوں پر بھرپور جدوجہد کی جائے اور ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو بلوچ قوم کے مستقبل کو سنوار سکیں۔
تنظیمی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تنقید اور خود تنقیدی ہر فرد کے اندر موجود ہونا لازمی ہے کیونکہ یہی عمل خود احتسابی کے ذریعے انسان کو اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے اور کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی تحریک اور سماجی انقلاب کے لیے تنقید اتنی ہی لازمی ہے جتنی مچھلی کے لیے پانی اور قلم کے لیے سیاہی۔ بدقسمتی سے بلوچ معاشرے میں آج بھی تنقید کو ایک منفی عمل سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث اپنی کوتاہیوں کو سدھارنے کے بجائے ہم مزید کمزوریوں میں گِر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنقید برداشت نہ کرنے اور اپنی غلطیوں پر نظرِ ثانی نہ کرنے کی وجہ سے آج بلوچ قومی تحریک کئی مسائل کا شکار ہے۔
اجلاس میں علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
مزید کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغن، بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ اور انہیں تعلیمی اداروں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں تاکہ بلوچ طلبہ کو تعلیم سے محروم رکھا جا سکے۔
جبری گمشدگیاں اور بلوچ نسل کشی دراصل ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں تاکہ بلوچ قوم میں خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے۔ مگر یہ تمام ریاستی حربے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ نے واضح کیا کہ بطور بلوچ طلبہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ اپنے تعلیمی اداروں کا دفاع کریں اور انہیں محفوظ بنائیں تاکہ بلوچ قوم کا تعلیمی مستقبل محفوظ ہو۔
اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے پر کئی فیصلہ جات لیا گیا اور تنظیمی سرگرمیوں میں نئے سرے سے بھرپور آغاز کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ تربیتی اور لٹریری کاموں میں بہتری لائی جائے گی اور مالی مسائل کے حل کے لیے نئے فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر اوتھل زون کے جنرل سیکریٹری معیار عابد کو اعزازی طور پر مرکزی کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا۔ آخر میں مرکزی وائس چیئرمین فضل بلوچ کی اجازت سے اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔