تربت : کیچ کلچرل فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اس سالانہ فیسٹیول کو روایتی انداز سے ہٹ کر منفرد انداز میں ترتیب دینا خوش آئند ہے۔
انتظامی کمیٹی میں ایسے لوگ شامل ہیں جو معاشرتی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں، انہوں نے بہترین پروگرام ترتیب دے کر اس فیسٹیول کو ایک الگ پہچان دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیسٹیول میں روایتی اور ثقافتی پروگرام شامل کرکے اس خطے کی قدیم ثقافت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کیچ کلچرل سینٹر میں قدیم میوزیکل انسٹرومنٹس ہمارے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ کر رکھے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے عوام اپنی ورثے اور ثقافت سے محبت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کیچ کلچرل سینٹر میں بلوچی ثقافت، تاریخ، روایات اور میوزک کو نہ صرف محفوظ کیا گیا ہے بلکہ نئی نسل کو پڑھایا بھی جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کلچر سینٹر کا دوسرا فیز بنانا بے حد ضروری ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے ظہور بلیدی سے اپیل کی کہ وہ اس منصوبے میں تعاون کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے موسیقاروں کے لیے 13 آسامیاں تخلیق کی ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں فعال نہیں کیا گیا۔
مخیر حضرات سے بھی گزارش ہے کہ کتابوں کے عطیات دے کر ہماری تعلیمی اور ادبی ضرورتوں کو پورا کرنے میں کردار ادا کریں۔ سوشل میڈیا ہمیں وقتی معلومات فراہم کرتا ہے مگر اصل دانش کتاب سے ملتی ہے۔
آج ہمارے کالجز اور یونیورسٹیوں کی لائبریریاں کتابوں کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ وہ تہذیبیں کامیاب رہیں جنہوں نے کتاب سے دوستی رکھی۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ہمیں اپنی تخلیقی عمل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہماری اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم علم و ادب سے دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر میں بلوچی زبان و ادب کے عظیم دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کی سو سالہ سالگرہ کے موقع پر شاندار فیسٹیول منایا جا رہا ہے جو ایک اہم اور تاریخی روایت کا آغاز ثابت ہوگا۔