|

وقتِ اشاعت :   October 1 – 2025

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بدھ کے روز سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا

جس میں فائل ٹریکنگ سسٹم، آئی پی ایم ایس، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی، برتھ، ڈیتھ اور میرج رجسٹریشن، کیش لیس اکانومی، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی فعالی سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کمبر دشتی، ایڈیشنل، چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات سمیت تمام انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری آفیسران کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں، خلوص اور ایمانداری سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔

وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور ہر ممکن آسانی فراہم کریں تاکہ عوام کا اعتماد حکومت پر مضبوط ہو۔ یہ ذمہ داری نہ صرف اخلاقی حیثیت رکھتی ہے بلکہ قانون اور ضوابط کے تحت بھی آفیسران پر عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی خدمت میں شفافیت، جوابدہی اور نیک نیتی سے کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ کیش لیس اکانومی کی اہمیت معیشت میں شفافیت، آسانی، اور ترقی کے لیے بہت بڑا قدم ہے۔

سرکاری اور نجی شعبے کے تمام مالی لین دین کو ڈیجیٹل سسٹمز کی طرف منتقل کیا جائے۔ اس نظام کے ذریعے لین دین زیادہ محفوظ، سستا، اور عوام کے لیے قابل رسائی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برتھ، ڈیتھ اور میرج کی رجسٹریشن کی اہمیت بہت زیادہ ہے

کیونکہ یہ رجسٹریشنز شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے اور سرکاری ریکارڈ کو درست اور شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔سرکاری اداروں کو آبادی کے درست اعداد و شمار فراہم کرکے بہتر حکومتی منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے،

اسی لیے برتھ، ڈیتھ اور میرج کی رجسٹریشن کو لازمی سمجھتے ہوئے سرکاری دفاتر میں بروقت اندراج کرانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ قانونی تحفظ اور سہولتیں حاصل کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا تمام سیکرٹریز فائل ٹریکنگ سسٹم اور پاکستان سٹیزن پورٹل پر عوام کی جانب سے درج شکایات کو فوری طور پر حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبہ ترقی کرے گا۔