|

وقتِ اشاعت :   October 2 – 2025

کوئٹہ: پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل سیکرٹری وارث افغان، وحدت افغان اور زوہیب کبزئی نے کہا ہے کہ دسمبر 2024ء میں بیوٹمز میں پی ایس او کی تربیتی اجلاس کے دوران طلباء کو اشتعال دلانے کی کوشش کر ان پر بے بنیاد مقدمہ درج کرکے 6 طلباء کو معطل اور 2 طلباء کو تھری ایم پی او کے تحت 8 ماہ جیل میں پابند سلال رکھا گیا۔

اگر طلباء کی معطلی کے احکامات واپس نہ لئے گئے تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے جلد احتجاج کا اعلان کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری بیوٹمز یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر یاسر عرفات، فردین خان، عدنان خان، دانیال آغا سمیت دیگر موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی کے انتظامیہ کے تعلیم دشمن اقدامات کی مذمت کرتے ہیں 2024ء میں بیوٹمز میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ایک پر امن تعلیمی اور سیاسی تربیتی میٹنگ کے دوران یونیورسٹی کے سیکورٹی آفیسر نے انتظامیہ کے کہنے پر موجود طلباء سے تلخ کلامی کرکے انہیں اشتعال دلاکر خود شیشے توڑ کر طلباء پر حملہ کرکے بلا جواز طور پر طلباء پر مقدمہ درج کیا گیا جوکہ حقائق کے برعکس اور پر امن طلباء کے خلاف سازش کرکے انتظامیہ نے 6 طلباء کو معطل کردیا اور 8 مہینے تک کسی ڈسپلنری کمیٹی کو نہیں بلایا اس دوران دو طلباء جن میں یاسر عرفات اور فردین خان کو تھری ایم پی او کے تحت گرتار کرکے آٹھ ماہ سے زائدہ عرصہ جیل میں پابند سلاسل رکھاگیا اور اس کے بعد طالب علم ارباز خان مندوخیل کو پانچ ماہ بعد یونیورسٹی کے گیٹ سے یونیفارم میں گرفتار کرکے توہین کی گئی۔

اس حوالے سے گورنر ہائوس نے بار بار انتظامیہ کو اس معاملے کو حل کرنے کی ہدایت دی لیکن انتظامیہ نے ڈال مٹول سے کام لیکر 8 مہینے تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا آخر کار اگست 2025ء میں طلباء کو ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیالیکن گورنر کو رپورٹ نہ دیکر تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اپنی اجارہ داری کو قائم رکھ کر طلباء کے مستقبل سے کھیل کر تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ گریڈ 18 سے گریڈ 21 تک کئی اہم عہدوں پر غیر قانونی طور پر تعیناتی کی گئی ہے۔ اور مستقبل بنیادوں پر کوئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی جوکہ میرٹ اور تعلیمی ادارے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے ۔ اگرمعطل طلباء کو بحال نہ کیا گیا تو بھر پور احتجاجی تحریک چلائیں گے جس کی تمام تر ذمہ یونیورسٹی انتٖظامیہ پر عائد ہوگی۔