کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری مزدور لیڈر داد محمد بلوچ نے بارڈرز کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران بلوچستان کے 30 لاکھ سے زائد لوگوں کے معاشی قتل میں ملوث ہے جس کی وجہ سے صوبے کے حالات ابتری کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں
جس سے بے روزگاری، مہنگائی اور بد امنی بڑھ رہی ہے ہم بارڈر کی بندش سے متاثرین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور بہت جلد ان کے ساتھ ملکر اس ناروا عمل کے خلاف تحریک شروع کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی دفتر میں ملنے والے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ داد محمد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین جوکہ آدھے پاکستان کے رقبے کے پر پھیلی ہوئی ہے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ جس کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی معدنی وسائل اور ساحل سمندر سے نواز رکھا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو قابل استعمال لاکر لوگوں کو روزگار کی فراہمی زندگی کی بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت پینے کے صاف پانی سمیت تعمیرات و مواصلات کے شعبوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی
بلوچستان کے 80 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور لائیو سٹاک سے جڑا ہوا ہے صوبے میں کوئی انڈسٹری نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈر ٹریڈ مالداری ، زراعت اور تجارت سے وابستہ ہے حکمرانوں نے یک قلم جنبش صوبے کے 30 لاکھ لوگوں کو بارڈر بند کرکے بے روزگار کرکے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردیئے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں اور صوبے میں بے روزگاری ، مہنگائی اور بد امنی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور لوگوں کو متبادل روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائے 30 لاکھ بے روزگار لوگوں سے رابطے میں ہیں ان کے ساتھ ملکر تحریک شروع کریں گے ۔