|

وقتِ اشاعت :   October 3 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے جمعرات کو بلوچستان صوبائی اسمبلی (خصوصی مراعات ترمیمی بل 2025) کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔

اس قانون کا مقصد اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزراء ، اپوزیشن لیڈر اور دیگر ارکان اسمبلی کو اضافی تحفظ اور سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔یہ بل صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حکومتی جانب سے ایوان میں پیش کیا، جسے اکثریتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔

قانون سازوں نے اسے جمہوری عمل کے تحفظ اور عوامی نمائندوں کو اپنے آئینی فرائض بغیر خوف یا دباؤ کے انجام دینے کے لیے ’’ضروری قدم‘‘ قرار دیا۔

بل کے مطابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے لیے کم از کم 10 سیکیورٹی اہلکار، ڈپٹی اسپیکر اور صوبائی وزراء کے لیے 8، اپوزیشن لیڈر کے لیے 6، پارلیمانی سیکریٹریز کے لیے 2 جبکہ دیگر تمام ارکان اسمبلی کے لیے بھی 6 اہلکار مقرر کیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ میر سر فراز بگٹی کی جانب سے پیش کیے گئے تفصیلات میں کہا گیا کہ صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عوامی نمائندے اکثر خطرات کا سامنا کرتے ہیں،

اس لیے ان کا تحفظ ناگزیر ہے۔

حکومت کے مطابق بیشتر ارکان ذاتی طور پر غیر تربیت یافتہ پرائیویٹ گارڈز رکھتے ہیں جو قواعد و ضوابط سے ناواقف ہیں، لہٰذا سرکاری تربیت یافتہ اہلکاروں کی فراہمی ناگزیر قرار دی گئی۔

ایوان نے بل کی منظوری کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ عوامی نمائندے خواہ حکومت کے ہوں یا اپوزیشن کے، انہیں بلا خوف و دباؤ عوام کی نمائندگی کا موقع ملنا چاہیے تاکہ قانون سازی کا عمل محفوظ اور مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔