|

وقتِ اشاعت :   May 31 – 2016

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس نے آج (منگل)سے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے وارڈز میں مریضوں کوسروسز دینے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا۔ یہ بات ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حفیظ مندوخیل اور آل پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن بلوچستان کے صدرفضل الرحمان کاکڑ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف کئی دنوں سے ہسپتالوں میں سہولیات کی ف راہمی اور اپنے محکمانہ مسائل کے حوالے سے احتجاج پر ہیں ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس نے صوبے بھر میں ایمرجنسی سروسز بحال رکھی مگر آج ضلع سبی میں ایمرجنسی سروسز کے دوران حکومتی اہلکاروں نے پیرامیڈیکل کے ایک ممبر کو دوران ڈیوٹی تھپڑ مارا اسکا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو ہماری ایمرجنسی سروسز عوام کو دینے سے بھی نفرت ہے مگر ہم عوام کی خاطر کسی طیش میں نہیں آئیں گے اور ایمرجنسی سروسز بحال رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء اور نمائندوں سے مذاکرات ہوتے رہے مگر وہ صرف زبانی یقین دہانی پرابتک اصرار کر رہے ہیں جو ایک ٹریڈ یونین کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے ملازمین کے مسائل اگر حکومت تسلیم کرتی ہے توا سکا باقاعدہ نوٹیفکیشن ہوتا ہے مگر حکومت اس سے مسلسل انکاری ہے لہذا حکومت کے روے سے مایوس ہوکر ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس نے آئندہ کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق آج سے پورے دھرنے کے شرکاء علامتی بھوک ہڑتال شروع کریں گے ،یکم جون کو بولان میڈیکل ہسپتال کے تمام ینگ ڈاکٹرز ریلی کی صورت میں دھرنے میں شامل ہونگے اور آج( منگل)سے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں وارڈز میں مریضوں کو سروسز سے دستبردار ہوجائیں گے اور 4جون کو صوبہ خیبرپختونخوا ،پمز ہسپتال اسلام آباد،سندھ اور پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس مشترکہ طور پر ایک دن کی او پی ڈی کا بائیکاٹ اوراحتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ایمرجنسی سروسز بحال رکھیں گے کارڈیک وارڈ ،لیبر روم اورشعبہ حادثات کھلے رہیں گے اور عوام کی خاطر ڈاکٹرز اورپیرامیڈیکس صبح 11بجے سے ایک بجے تک روزانہ دھرنے میں او پی ڈی کریں گے۔