کوئٹہ: کاسی بحریہ ٹائون کوئٹہ کے متاثرین ندیم ترین، عارف علوی ، قیصر مری اور انعام بلوچ کی قیادت میں کاسی بحریہ ٹائون اسکیمات کے خلاف ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔
مقررین نے کہا کہ الاٹیز 12 سال سے خوار اور در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔
تمام اسکیمات میں فوری ترقیاتی کا آغاز کرکے عدالتی فیصلے پر فی الفور عملدرآمد کو ممکن بنایا جائے۔
اسکیم میں ہزاروں الاٹیز کی رقم پھنسی ہوئی ہے جن الاٹیز کی تمام رقم ادا ہوگئی ہے انہیں فوری طور پر انتقالات دیئے جائیں۔ جن الاٹیز کے پلاٹس کیس کے دوران کینسل کئے گئے تھے ان کو پرانے ریٹ پر بحال کیا جائے۔ کئی الاٹیز دلبرداشتہ ہوکر اپنی فائلز واپس کی تھیں ان کو چار سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی رقم واپس نہیں کی گئی ہے ۔
مظاہرین نے چیف جسٹس بلوچستان سے اپیل کی کہ کاسی بحریہ ٹائون کے متاثرین کو ان کا حق دلانے کیلئے از خود نوٹس لیکر اسکیم میں ہزاروں الاٹیز کی داد رسی کی جائے۔
11 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود کاسی بحریہ ٹائون میں کام کا آغاز نہ کرنا کیو ڈی اے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔