کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شکور بلوچ نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم فراہمی ،اساتذہ کی کمی ،
طلباء کو سکالر شپس ، الیکٹرک بائیکس سمیت دیگر منصوبوں میں شفافیت نہ ہونے کے باعث طلباء مسائل کا شکار ہیںحکومتی سطح پر صرف خوشنما وعدوں اور اعلانات کے ذریعے دھوکہ دیا جارہا ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیکر در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں
بے روزگاری کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان تیل کا خطرناک کاروبار کررہے ہیں موجودہ حکومت بدامنی کا ذمہ دار طلباء کو قرار دیکر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں کامران بلوچ، نقیب بلوچ سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان مختلف مسائل کا شکار ہے بدامنی، بے رزگاری کا اثر طلباء پر پڑرہا ہے ژوب سے لیکر گوادر تک تعلیم، صحت، امن، روزگار نہیں ہے۔
حکومت کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ سب اچھا کا راگ الاپ کر مسائل کو دگنا کیا جارہا ہے نوجوان اعلیٰ حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے حصول کیلئے سرگرداں رہتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر کوئی روزگار میسر نہیں جس کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوکر تیل کا خطرناک کاروبار کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز گرلز کالج میں وزیر اعلیٰ کے تقریر کے دوران طالبات نے آوازیں لگائی تھیں جس پر وزیر اعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرکے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا تھا ان کو چاہئے کہ تھا کہ ان کی بات سنتے اور مسائل کے حل پر بات کرکے طالبات کے سر پر ہاتھ رکھتے کہ طالبات کس سے وجہ سے حکومت سے نالاں ہیں ۔ تمام مسائل زرغون روڈ پر بیٹھے طبقے کی غلط پالیسیوں کے باعث جنم لے رہے ہیںمسائل کے حل سے روگردانی کی بجائے انہیں اپنا احتساب کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ اکثر کالجوں میں بی ایس کلاسز شروع ہونے کے باوجود اساتذہ نہیں ہے ۔
پوسٹ گریجویٹ کالج سریاب روڈ کا ہاسٹل کھنڈر بن چکا ہے بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے بسز نہ ہونے کے باعث آنے جانے میں مشکلات درپیش آرہی ہے۔ اگر احتجاج کریں تو اس کا منفی نتیجہ نکالتے ہیں بر سر طبقہ میں بات سننے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیںرکھتے ہیں تمام معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔