کوئٹہ : ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر یا سر خو ستی کے مطابق ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کی جانب سے جاری دھرنے کو 11روز مکمل ہونے کے باوجود حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی اور ہٹ دھرمی اپنائے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ز نے ایمرجنسی سروسز کو بند نہیں کی اور نہ ہی کوئی ہڑتال کی لیکن جب 10ماہ تک حکام بالا سے منتیں کر کے ڈاکٹر ز تنگ آگئے تو ہڑتال کی کال دے دی اس کے بعد بھی یہ لوگ 2مہینے تک ہٹ دھرمی پر قائم رہے جس سے مجبو ر ہو کر ینگ ڈاکٹر ز اور پیرا میڈیکس نے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا 5دن تک دھرنا جاری رہا اور ینگ ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے لیکن کسی کو احساس تک نہیں ہو ا تب جاکر ینگ ڈاکٹرز نے وارڈ میں ڈیوٹی سرانجام دینے سے انکار کر دیا مگر ایمرجنسی سروسز یعنی ایمرجنسی آپریشن تھیٹر ،لیبر روم ،سی سی یواور ایمرجنسی روم اب بھی کھلے ہیں ہم حکام بالا کو واضح کردینا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر ہماری مطالبات کی شنوائی نہیں کی تو ینگ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس مجبور ہوکرکسی بھی سخت اقدامات سے گریز نہیں کریگی کیونکہ اب ینگ ڈاکٹر ز اور پیرامیڈیکس کے صبر کا پیمانہ لیبریز ہو چکا ہے اور مجبوراً وہ کسی بھی اقدامات سے گریز نہیں کرینگے اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکس نے ایک آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں بلوچستان کے تمام سیاسی و سماجی پارٹیوں کے معتبرین کو مدعو کر کے انہیں بلوچستان کے ہسپتالوں کی حالت زار پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی اور ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پارٹیوں کو اعتماد میں لے گی۔بیان میں کہا گیا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن نے بلوچستان کے عوام کا درد اور دکھ کو دل میں رکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرا میڈیکس کے مشترکہ دھرنے میں او پی ڈی جاری رکھی ہوئی ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں مریضوں کا علا ج و معالجہ مفت کیا جا رہا ہیں۔