کوئٹہ : جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن اسمبلی مولانا ہدایت رحمان نے کہاہے کہ ملک میں طبقاتی نظام کے باعث لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔
حکمران اور طاقتوروں کی لوٹ مار کے باعث ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے لوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
21-22 اور 23 نومبر تک مینار پاکستان میں بدل دو نظام کے عنوان سے اجتماع ہوگا بلوچستان کے لوگ کثیر تعداد میں شرکت کو یقینی بنائیں عوام کی آواز بلند کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
اس موقع پر زاہد اختر بلوچ، عبدالکبیر شاکر،عارف دمڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ہر دس سال بعد جماعت اسلامی کا مرکزی اجتماع ہوتا ہے 21 سے 23 نومبر تک مینار پاکستان پرنظام کو بد ل دو کے عنوان سے مرکزی اجتماع ہوگا جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کلمہ کے نام پر وجود میں آیا یہاں کوئی طاقتور نہیں ہوگا انصاف برابری کی بنیاد پر ہوگا۔
کسی خاندان کی حکمرانی نہیں ہوگی اس کیلئے ہمارے بزرگوں اور اکابرین نے قربانیاں دی لیکن بد قسمتی سے وہ نظام تونہیں آسکا سرداروں ، شریفوں ،زرداریوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور جرنیلوں کا نظام تو آیا لیکن عدل و انصاف کا نظام نہیں آیاجس کی وجہ سے آج ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ یہی چہرے ہر حکومت میں مختلف پارٹیاں بدل کر آتے ہیں لیکن نظام تبدیل نہیں کرتے ہیں ہمیں اس نظام کو بدلنا چاہئے ۔
ملک میں چند خاندانوں کی حکمرانی ہے وسائل انہی پر خرچ ہوتے ہیں۔بلوچستان میں ایسے لوگ ہیں جو گرمیوں میں سوئمنگ پول میں سرکاری پیسوں سے برف ڈالتے ہیںاور اپنی بیویوں کے لئے سرکاری جہاز استعمال کرتے ہیں۔
لیکن ملک کے باسیوں کے بچے کچرے کے ڈھیروں سے اپنا رزق تلاش کرتے ہیںکیا لوگوں نے اسی نظام کیلئے قربانیاں دی تھیں جوکہ چند لوگوں نے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ کر بندر بانٹ کررہے ہیں۔ اور با اثر لوگوں کے لئے رات 12 بجے عدالتوں کے دروازے کھلتے ہیں۔
لیکن غریبوں کیلئے دن بارہ بجے بھی بند ہوتے ہیں۔ اس ظلم کے نظام سے بلوچستان اور پاکستان میں امن نہیں آئے گا ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جو پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں کہ مسائل کسی ہمسایہ کی وجہ سے ہے جوکہ درست نہیں بنیادی سہولیات مانگنے والے کو انڈیا کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے یہاں صرف منشیات فروش ہی محب وطن ہیں اس حوالے سے مینار پاکستان میں بلوچستان کا درد لوگوں اور ارباب اختیار کے سامنے رکھیں گے۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ سر فہرست ہے بلوچستان نے بانی پاکستان کو الحاق کے وقت سونے اور چاندی میں تولاتھااس کا کوئی صلہ نہیں ملا ۔ ظلم اور فرسودہ نظام میں ایک کی تنخواہ 30 ہزار ہے تو دوسرے کی تنخواہ 30 لاکھ ، ایک ماہانہ پنشن 10 ہزار تو ایک 10 لاکھ روپے لیتا ہے۔
10 لاکھ روپے والے کو تو پنشن مل جاتا ہے اور 10 ہزار روپے والا پنشن نہ ملنے کی وجہ سے احتجاج کرتا ہے۔
بلوچستان میں سرکاری سطح پر کھانوں پر بے تحاشا اخراجات کئے جاتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ادویات میسر نہیںجمہوریت اور ریاست کے اندر سسٹم کو بہتر بنانے کے حامی ہیں۔ عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماع میں بلوچستان بھر سے لوگ شرکت کریں گے لاہور میں بلوچستان کا مقدمہ پاکستان کے عوام کے ساتھ رکھتے آرہے ہیں۔بلوچستان کے لوگ محب وطن ہیں ملک پر چند خاندانوں نے قبضہ کیا ہے ملک میں انصاف اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں انصاف سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے ۔