امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کوئی بھی انسان سے قانون سے بڑا اورطاقتور نہیں ہے، کسی ادارے کے سربراہ، صدر یا وزیر اعظم کو کوئی استثنیٰ نہیں ملے گا۔
لاہور کے مینار پاکستان پر منعقدہ اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی یونیورسٹیوں میں اسلامی چھاترو شبر کی جیت اسلامی انقلاب کی کامیابی ہے۔ پاکستان کے گلی گلی کوچے کوچے میں بھی بدل دو نظام تحریک کے ذریعے انقلاب لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے کارکن کو دعوت دیتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، جماعت اسلامی میں سب کو عزت دینے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت ہے۔ عدالتی نظام گل سڑ چکا ہے، یہاں انصاف بکتا ہے اور غریب کی پہنچ سے دور ہے، نچلی سطح پر پنچایتی نظام اور قاضی کورٹس کے ذریعے عام آدمی کے مسائل اس کی دہلیز پر حل کریں گے، سستا اور فوری انصاف عام کریں گے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اللہ کے بنائی ہوئی زمین پر نظام بھی اللہ کا ہوگا، کوئی بھی انسان سے اللہ کے قانون سے بڑا اورطاقتور نہیں ہے، مینارکستان کے سائے تلے لاکھوں لوگ یہ عہد کرتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کسی کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھوکے کے ذریعے اقتدار میں آنیوالے امریکا سے ڈرتے ہیں، یواین او کی فلسطین سے متعلق قرار داد کی پاکستان کو حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی، کسی کے لیے کوئی استثنی نہیں ہے، کسی ادارے کے سربراہ، صدر یا وزیر اعظم کے لیے بھی استثنی نہیں ہے، اب سردار،وڈیروں اوربیوروکریسی کا نہیں اللہ کا نظام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طاقت یا فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرے گا تو پھر مزاحمت ہوگی، اگر دائیں بائیں اے ٹی ایم ہوں گی تو نظام نہیں بدلے گا، پھر سربراہ اندر اور پارٹی باہر ہوگی، بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر کو پھانسی دی گئی لیکن وہاں نوجوانوں نے جدوجہد نہیں چھوڑی، بنگلہ دیش میں آج نوجوان کامیاب ہوئے انڈیا کی حمایت یافتہ لابی کو اٹھا باہر کیا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پرامن طریقے سے نظام کی تبدیلی کا شعور بیدار کریں گے، جماعت اسلامی میں وڈیروں، جاگیرداروں اور بیوروکریسی کی گود میں بیٹھ کر سربراہ نہیں بنتا، وراثت اورخاندان پر مبنی جماعتیں انقلاب نہیں لاسکتیں۔